اسلامی جہاد
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴
اسلامی جہاد
جہاد زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ جس چیز کو ہم عمل یا جدوجُھد (struggle) کہتے ہیں اسی کا عربی مترادف جہاد ہے۔ جہاد نہ کوئی پراسرار چیز ہے اور نہ وہ تشدد کے ہم معنی ہے۔ وہ سادہ طور پر بھر پور کوشش کے لئے بولا جانے والا ایک لفظ ہے۔
اردو میں ہم کہتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا اور جدوجہد حیات کے مرحلہ میں داخل ہوا۔ اسی طرح عربی میں کہا جاتا ہے کہ بذل جھدہ،اس اس نے اپنی پوری کوشش صرف کی۔ اسی طرح انگریزی میں کہتے ہیں کہ:
We must struggle against this prejudice
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا ایک عام انسانی صفت ہے۔ اس کے لئے جس طرح ہر زبان میں الفاظ ہیں اسی طرح عربی زبان میں بھی الفاظ ہیں۔ جہاد کا لفظ بھی اصلاً یہی مفہوم رکھتا ہے۔ کوشش کے لئے عربی میں سعی ایک عام لفظ ہے۔ لیکن جہاد کے لفظ میں مبالغہ کا عنصر شامل ہے۔ یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔
البتہ یہاں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ جب ہم کوشش یا جدوجہد یا اسٹرگل کا لفظ بولیں تو اس میں ثواب یا عبادت کا مفہوم شامل نہیں رہتا۔ لیکن جہاد کا لفظ جب اسلامی اصطلاح بناتو اس میں اصطلاحی طور پر یہ مفہوم بھی شامل ہوگیا۔ یعنی کوشش کے معنی اگر صرف کوشش کے ہیں تو جہاد کا مطلب ایک ایسی کوشش کرنا ہے جو عبادت ہو اور جس میں مشغول ہونے پر انسان کو ثواب حاصل ہوتا ہو جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: جاهدوا فی ٱللَّهِ حق جہاده۔
جہاد لغت میں
جہاد کی اصل جہد ہے۔ اس کے معنی کوشش کے ہیں مگر جہد کے مادے میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے: جھد اللبن (کوشش کرکے سارا مکھن نکال لینا) لینا)اوراجھدالدابۃ(جانورکے اوپر طاقت سے زیادہ لادنا) اسی طرح کہا جاتا ہے بذل جھدہ (اس نے اپنی پوری طاقت صرف کی)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues