مظفر نگر کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱
قلیل مدت میں اتنے زیادہ رفاہی کام کئے جو کسی بھی دوسرے ہندوستانی حکمران نے نہیں کئے ۔ تاہم اس کے اندر ایک کمزوری تھی وہ ضرورت سے زیادہ باحوصلہ (over-ambitious) آدمی تھا۔ وہ شیر شاہ بننے پر راضی نہ تھا بلکہ شہنشاہ ہند بننا چاہتا تھا۔ اس بنا پر اس کا ٹکراؤ ہمایوں بادشاہ سے ہو گیا۔ اس ٹکراؤ کا غیر معمولی نقصان دونوں کو ہوا۔ اگر ہمایوں اور شیر شاہ میں مصالحت ہو جاتی تو شاید ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی ۔ با حوصلہ ہونا اچھا ہے، مگر ضرورت سے زیادہ با حوصلہ ہونا اتنا ہی زیادہ برا ہے۔
ہماری گاڑی مظفر نگر میں داخل ہونے والی تھی کہ میرے ساتھی نے سڑک کے کنارے واقع ایک بڑے مکان کی طرف اشارہ کیا جس کا نام کہکشاں منزل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کوٹھی نواب زادہ لیاقت علی خاں ( ۱۹۵۱- ۱۸۹۵) نے یہاں بنائی تھی۔ وہ کرنال (پنجاب ) میں پیدا ہوئے ۔ پھر وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور ان کو قائد ملت کا خطاب دیا گیا۔ اب ایک اور شخص نے اس مکان کو خرید لیا ہے اور اس کا نام رتن دیپ رکھ دیا ہے۔
نواب زادہ لیاقت علی خان جیسے ہزاروں لوگ ہیں جو ہندوستان میں بہت اچھی حالت میں تھے۔ اس کے باوجود وہ لوگ تقسیم کے وقت ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے ۔ یہ ترک وطن رومانی تصورات کے تحت تھا۔ مگر نتائج بتاتے ہیں کہ وہ حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔ خود نواب زادہ لیاقت علی خاں، دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح وہاں قتل کر دئے گئے ۔ اب وہاں مہا جروں کا جو حال ہے وہ ایک ایسا معلوم واقعہ ہے جس کی بابت یہاں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
مظفر نگر میں داخل ہو کر ہماری گاڑی ایک سڑک پر مڑی۔ وہ چلتی ہوئی ایک مکان کے سامنے رک گئی۔ اس پر لکھا ہوا تھا: گلزارار ابراہیم۔ یہ جناب عقیل احمد صاحب کا مکان تھا۔ ان کے والد کا نام ابراہیم تھا۔ اسی پر انھوں نے اپنے مکان کا نام گلزار ابراہیم رکھا ہے۔ عقیل احمد صاحب اور ان کے دو بھائی الگ الگ بھی ہیں اور ایک ساتھ بھی۔ ان کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues