آواز بلند کرنا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۶
آواز بلند کرنا
اکبر الہ آبادی (۱۹۲۱۔ ۱۸۴۶) اردو زبان کے مشہور شاعر ہیں۔ انھوں نے طنز و مزاح کے انداز میں اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے :
ظلم سے اکبر بتوں کے، چپ نہ رہنا چاہئے اور کچھ نہ بن پڑے تو شعر کہنا چاہئے یہ شعر ان انسانوں پر صادق آتا ہے جن کے بس میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مخالف حالات کو بدل سکیں، تو ایسے لوگ لفظی چیخ پکار میں مشغول ہو جاتے ہیں جس کو وہ بطورِ خود "ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا" کہتے ہیں۔
اس قسم کا لفظی شور و غل یقینی طور پر بے معنی ہے۔ وہ سراسر بے فائدہ ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو بے فائدہ کاموں سے بچنے والا ہو۔
ناموافق حالات میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ تعمیر و استحکام کے ذریعہ اپنے آپ کو اتنا طاقتور بنایا جائے کہ مخالفوں کے مخالفانہ منصوبے بے اثر ہو کر رہ جائیں۔ ایسی حالت میں جب بے نتیجہ شور و غل کو کام سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد ایسا ہو گا کہ لوگوں کی توجہ اصل کام سے ہٹ جائے گی۔ وہ سمجھیں گے کہ حالات کے مقابلہ میں ہم کو جو کچھ کرنا چاہئے وہ ہم کر رہے ہیں۔ یہ کوتاہ فہمی ان کے نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بن جائے گی۔
عمل وہی ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جس عمل کا کوئی حقیقی نتیجہ نکلنے والا نہ ہو وہ کوئی عمل بھی نہیں ۔ ایسی حالت میں "ظلم کے خلاف چیخ و پکار" مضر بھی ہے اور بے فائدہ بھی۔ وہ ایک نقصان کے بعد اپنے آپ کو دوسرے نقصان میں ڈالنا ہے۔
اس دنیا میں اس سے زیادہ تباہ کن کوئی چیز نہیں کہ نہ کرنے کو ، کرنا سمجھ لیا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں لغو سے پرہیز کرنا کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues