Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳
ہو اہو کہ میں حق پر ہوں، میں نے سچائی کو پالیا ہے۔ یہی یقین اعلیٰ انسانیت کا سر چشمہ ہے اور ”میں بھی ٹھیک تم بھی ٹھیک“ عین اسی احساس سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ”میں بھی ٹھیک، تم بھی ٹھیک“ کا نظریہ انسان کے لئے ذہنی موت کے ہم معنیٰ ہے۔ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا، یا یہ سمجھنا کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے کسی بھی درجہ میں دوسروں کے خلاف نفرت یا حقارت کا سبب نہیں۔ بلکہ برعکس طور پر وہ محبت انسانی کا ذریعہ ہے۔ اس معاملہ میں نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ کسی آدمی کے لئے سچائی کی دریافت عین اسی وقت خود اپنے لئے فروتنی (modesty) کی دریافت ہوتی ہے۔ سچائی صرف ایک ایسی چیز ہو سکتی ہے جو آدمی سے بلند تر ہو۔ جو چیز آدمی سے بلند نہ ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ ایسی حالت میں جو آدمی حقیقی طور پر سچائی کو دریافت کرے اس نے گویا ایک ایسی عظمت کو دریافت کیا جس کے مقابلہ میں وہ خود غیر عظیم تھا۔ سچائی نہ آدمی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ اس سے کم۔ سچائی لازمی طور پر آدمی سے عظیم تر ہو گی۔
ایسی حالت میں سچائی کی دریافت کا سب سے بڑا معیار (criterion) صرف ایک ہے اور وہ فروتنی ہے۔ جو آدمی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سچائی کو دریافت کیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے اندر گھمنڈ یا برتری کا احساس ہو تو یقینی طور پر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے جس چیز کو پایا ہے وہ خود اس کی اپنی ذات ہے نہ کہ بر تر سچائی۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کرنے والا ایک حیوان ہے: Man is a truth-seeking animal اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایک نامکمل مخلوق ہے۔ انسان کی فطرت ہر لمحہ اس کو کسی چیز کی دریافت کرنے پر اکساتی رہتی ہے جو اس سے بر تر ہو، جس کے ذریعہ وہ اپنی ذات کی تکمیل کر سکے۔ یہ کہنا کہ انسان متلاشی حق ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ انسان اپنے سے بر تر ایک ایسی چیز تلاش کر رہا ہے جس کے مقابلہ میں وہ اپنی حیثیت
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues