Al-Risala · July 2000 · page 19

ISLAMIC BOOKS

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

جہد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس زمانہ کے مسلمانوں کی یہی صفات تھیں جس نے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ فطرت کے ایک عالمی انقلابی رول کو ادا کرنے کے لئے چن لئے جائیں۔ فطرت کے اس قانون کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے۔ (البقرہ ۲۵۱)

فطرت کے اس قانون کو مذکورہ آیت میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک قوم سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام قوموں سے ہے۔ ہر قوم کچھ مدت کے بعد اس قانون کی زد میں آجاتی ہے مثال کے طور پر عرب مسلمانوں کے ذریعہ پہلے دوسری قوموں کو ٹھوکر دی گئی ۔ اس کے بعد منگولوں اور سلجوقیوں کے ذریعہ عربوں کو اس ٹھوکر کا سابقہ پیش آیا۔ اس کے بعد جب مغل اور سلجوق حکمراں جمود کا شکار ہوئے تو دوبارہ انہیں مغربی قوموں کے ذریعہ ٹھوکر لگادی گئی۔ موجودہ مسلمان اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ دفع اقوام کا یہ معاملہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، فطرت کا ایک آپریشن ہوتا ہے۔ قوموں کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو اسی نظر سے دیکھیں تا کہ ان کے اندر مثبت ذہن پیدا ہو۔ ایسے موقع پر منفی ذہن تباہی میں اضافہ کرتا ہے، اور مثبت ذہن ان کو دوبارہ زیادہ بہتر تعمیر کے قابل بنا دیتا ہے۔

ISLAMIC BOOKS

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page