Al-Risala · July 2000 · page 20

قاتل انسانیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

قاتل انسانیت

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایاکم والحسد، فان الحسد یا کل الحسنات كما تاكل النار الحطب (ابو داؤد، کتاب الادب، باب الحسد، ابن ماجه، کتاب الزہد) یعنی تم حسد سے بچو، کیوں کہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کھاجاتاہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : لا يجتمعان فی قلب عبد الایمان والحسد (النسائی، کتاب الجہاد) یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔

حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے۔ حسد کا نقصان یہ ہے کہ وہ آدمی سے اعلیٰ ایمانی کیفیات کو چھین لیتا ہے۔ حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وہ دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا۔ موجودہ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک شخص بظاہر بڑا ہو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چھوٹا ۔ یہ امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جائے تو گویا کہ وہ خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے۔ ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا۔

حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ ہو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے۔ اس کا نقصان اس کو اس بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے: لا يرحم الله من لا يرحم الناس (البخاری، کتاب التوحید) یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page