قاتل انسانیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱
قرآن میں تقویٰ کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی تب بھی آدمی اس کے بارے میں عدل و انصاف کی بات کہے (المائدہ ۸)۔ مگر جس آدمی کے دل میں کسی کے خلاف حسد اور جلن ہو اس کے بارے میں انصاف کی بات کہنا اس کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ حسد کا جذبہ اس کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے محسود کے بارے میں وہ بات کہے جس میں اس کے دل کو تسکین ملتی نہ ہو کہ وہ بات جو بطور واقعہ درست ہو۔ اس طرح حسد آدمی کو خدا کی نظر میں ظلم اور بے انصافی کا مجرم بنا دے گا۔
انسانیت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر موضوعیت (objectivity) ہو۔ وہ لوگوں کے بارے میں غیر جانبدارانہ رائے قائم کرے ۔ وہ معاملات کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھ سکے۔ اس قسم کی حقیقت پسندی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ مگر حسد آدمی کے لئے اس میں مانع بن جاتا ہے کہ وہ بے آمیز رائے قائم کر سکے۔ حسد آدمی کے اندر متاثر ذہن پیدا کر دیتا ہے، اور متاثر ذہن کے ساتھ آدمی کبھی کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتا۔ حسد بلاشبہ خود حاسد کے لئے سب سے بڑی محرومی ہے۔
قرآن وحدیث کے مطابق صدقہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اس صدقہ کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے بلکہ دل اور زبان سے بھی ہے۔ یہ بھی ایک عظیم صدقہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے انسان کے بارے میں اچھی رائے رکھے۔ وہ اس کا خیر خواہ ہو۔ وہ اچھے الفاظ میں اس کا تذکرہ کرے ۔ وہ اس کے حق میں نیک دعائیں کرے۔ مگر جب ایک آدمی کے دل میں دوسرے انسان کے لئے حسد کا جذبہ پیدا ہو جائے تو وہ اس عظیم نیکی سے محروم ہو جائے گا۔ اس کی زبان دوسرے انسان کے لئے کھلے گی تو اس کی برائی کے لئے کھلے گی نہ کہ اس کی بھلائی کے لئے ۔ اس کا سینہ ایسے انسان کے خلاف نفرت سے بھر جائے گا۔ اس طرح حسد ایک آدمی کو اس آخری نیکی سے بھی محروم کر دیتا ہے کہ وہ کسی کے حق میں کلمہ خیر بول سکے۔ یہ ایک ایسی محرومی ہے جس سے بڑی محرومی شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues