فہم دین: ایک اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲
فہم دین: ایک اصول
عربی زبان میں کہا جاتا ہے لا یضربنك زيد۔ لفظی ترجمہ کے اعتبار سے بظاہر اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زید تم کو ہر گز نہ مارے۔ مگر باعتبار حقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ زید تم کو مارنے نہ پائے۔ تم ایسی کارروائی نہ کرو جس کے بعد زید کو تمہیں مارنے کا موقع مل جائے۔ گویا اس جملہ میں خطاب کا رخ ضارب کی طرف نہیں ہے بلکہ مضروب کی طرف ہے۔
۱۔ عربی زبان کا یہ اسلوب قرآن میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فلا ينازعنك في الامر وادع الى ربك (الحج (۶۷) اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ پس وہ ہر گز تم سے جھگڑانہ کریں اور تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔ مگر یہاں بھی وہی اسلوب ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی بظاہر آیت کا رخ مدعو کی طرف ہے مگر حقیقۃ اس کا رخ داعی کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مدعو کو نزاع برپا کرنے کا موقع نہ دو۔ نزاع سے اعراض کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ دعوت کے اوپر لگائے رہو۔
یہ بلاغتِ کلام کا ایک اہم اصول ہے۔ بعض مواقع پر بظاہر خطاب کا رخ ایک چیز کی طرف ہوتا ہے مگر حقیقۃ کلام کے اعتبار سے اس کا رخ کسی اور چیز کی طرف ہوتا ہے۔ یہ نکتہ کلام کے موقع ومحل کے مطالعہ سے سمجھ میں آتا ہے۔
۲۔ قرآن میں اس اسلوب کی ایک مثال سورہ نمبر ۸۰ میں پائی جاتی ہے۔ اس سورہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے: ترش رو ہوا اور بے رخی برتی اس بات پر کہ اندھا اس کے پاس آیا۔ اور تم کو کیا خبر کہ وہ سدھر جائے یا نصیحت کو سنے تو نصیحت اس کے کام آئے۔ جو شخص بے پروائی برتتا ہے، تم اس کی فکر میں پڑتے ہو، حالانکہ تم پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ نہ سدھریں۔ (عبس ۷) ان آیات میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتوم سے اعراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر بطور عتاب یہ سورہ نازل
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues