Al-Risala · July 2000 · page 23

فہم دین: ایک اصول

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳

فرمائی (تفسیر القرطنی ۱۹؍۲۱۰) مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی بلاغت کا وہی اصول اختیار کیا گیا ہے جس کے مطابق بظاہر خطاب کسی ایک سے کیا جاتا ہے مگر اصل مقصود کوئی دوسرا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سورہ میں بھی خطاب کا اصل رخ اشرافِ قریش کی طرف ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اشرافِ قریش پر اپنا عتاب ظاہر فرمایا ہے جو حق کے مقابلہ میں سرکشی کا طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شریف آدمی کا بیٹا گھر سے باہر جائے۔ وہاں محلہ کا ایک شریر لڑکا اس سے الجھ جائے۔ اس کے بعد باپ گھر سے باہر آئے۔ وہ شریر لڑکے کی طرف نہ دیکھے بلکہ اپنے بیٹے کو تنبیہ کرتے ہوئے کہے کہ تم کو یہاں آنے کی ضرورت کیا تھی۔ تم کو اپنے گھر میں ہوم ورک کرناچاہیے تھا۔ نہ کہ تم ان لڑکوں کے پاس آکر ان کے ساتھ بیٹھو۔ اس کلام میں باپ کا خطاب بظاہر اپنے بیٹے کی طرف ہے مگر حقیقتاً وہ شریر لڑکے کے خلاف بیزاری کا اظہار ہے۔ ۳۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے سامنے اپنی دعوتِ رسالت پیش کی تو فرعون نے اپنے درباریوں کو خطاب کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کے بارے میں کہا کہ: یرید ان یخرجکم من ارضکم (الاعراف ۱۱۰) یعنی موسیٰ یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم لوگوں کو تمہاری زمین سے نکال دیں۔ اس آیت کو کچھ لوگوں نے ظاہر معنی میں لے لیا۔ مثلاً سید قطب مصری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ فرعون نے درباریوں سے کہا کہ : انها الخروج من الارض...... انها ذهاب السلطان (فی ظلال القرآن ۳؍۱۳۲۸) یعنی فرعون نے کہا کہ یہ ہمارے لئے ملکِ مصر سے نکل جانا ہے اور یہ ہمارے اقتدار کا چھن جانا ہے۔ سورۃ الشعراء کی ایک آیت کی تشریح کے تحت بھی سید قطب نے یہی بات لکھی ہے۔ ملاحظہ ہو فی ظلال القرآن ۲۵۹۳؍۵۔ (مگر یہ تشریح درست نہیں)

فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ کی پوری تقریر کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پیغمبر نے جو بات کہی تھی وہ فرعون کے قول کے بالکل برعکس تھی۔ فرعون حضرت موسیٰ کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page