Al-Risala · July 2000 · page 24

فہم دین: ایک اصول

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴

خلاف یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال کر اس کے اوپر خود سیاسی قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ نے برعکس طور پر فرعون سے یہ کہا تھا کہ : فارسل معی بنی اسرائیل (الاعراف ۱۰۵) یعنی مجھ کو اجازت دے کہ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر ملک مصر سے باہر چلا جاؤں۔ گویا حضرت موسیٰ تو خود اپنے لئے مصر سے نکلنے کی بات کر رہے تھے۔ لیکن فرعون نے اس کو الٹ کر کہا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ فرعون نے جب یہ بات اپنے درباریوں سے کہی تو اس کا مقصد حضرت موسیٰ کے مشن کو بتانا نہیں تھا بلکہ خود اپنے لوگوں کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانا تھا۔ چنانچہ اس نے غلط بیانی کر کے حضرت موسیٰ کی طرف وہ بات منسوب کر دی جو انہوں نے کبھی نہیں کہی تھی۔ فرعون کے کلام کا رخ موسیٰ کی طرف نہ تھا بلکہ خود اپنے درباریوں کی طرف تھا۔ مذکورہ تفسیر کی غلطی یہ ہے کہ اس میں موسیٰ کے مشن کو فرعون کے کلام سے نکالا جا رہا ہے جب کہ موسیٰ کا مشن خود موسیٰ کے کلام سے نکلے گا نہ کہ ان کے دشمن فرعون کے کلام سے۔ حدیث کی مثال کلام کا یہ اسلوب حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث کے ذخیرے میں بہت سی روایتیں ہیں جن کو سمجھنے کے لئے اس نکتہ کو جاننا ضروری ہے۔ ورنہ حدیث کی اصل روح کو سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔

۴۔ مثال کے طور پر بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : الصلوة المكتوبة واجبة خلف كل مسلم ، برا كان او فاجراً (سنن ابی داؤد ا/ ۱۵۹) یعنی مکتوب نمازوں کی ادائیگی ہر مسلم امام کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد ہو۔ اس حدیث میں خطاب کا رخ بظاہر امام کی طرف ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد ماموم یا مقتدی ہے۔ اس حدیث کا مقصود امام کے مسئلہ کو بتانا نہیں ہے بلکہ مقتدی کے مسئلہ کو بتانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی کی نظر میں اس کی مسجد کا امام خواہ بظاہر نیک ہو یا بد، اگر وہ مسجد کا باضابطہ امام ہے تو مقتدی کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page