فہم دین: ایک اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵
ہر حال میں اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے نہ کہ امام کی نماز۔ حدیث میں آیا ہے کہ : لكل امرئ ما نوى (صحیح البخاری) یعنی ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ مسجد میں امام مقرر کرنے کا مقصد نماز باجماعت کی تنظیم ہے۔ امام اگر اچھا ہو تب بھی اس کی وجہ سے مقتدی کی نماز اچھی نہیں ہو جائے گی اور اگر بالفرض امام برا ہو تب بھی اس کی وجہ سے مقتدی کی نماز بری نہیں ہو جائے گی۔ مذکورہ حدیث کا مقصد مسجد کے ماحول کو انتشار و افتراق سے بچانا ہے نہ کہ کسی مقتدی کی نماز کا حکم بتانا۔
۵۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : اذا وضع الطعام فاخلعوا نعالكم فانه اروح لا قدامكم (الداری، کتاب الاطعمة) یعنی جب کھانا کھا جائے تو اپنے جوتے کو اتار دو۔ کیوں کہ اس میں تمہارے پیروں کے لئے زیادہ راحت ہے۔
یہ حدیث بھی اسی اسلوب کلام پر ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ چنانچہ اس حدیث میں حقیقہ یہ مسئلہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ کھانے کے وقت جوتااتاردو بلکہ اس میں راحت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جب کھانا کھانا ہو تو جوتے اتار کر سکون کے ساتھ بیٹھو اور شکر الہی کے جذبہ کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ تاہم اگر سردی کا موسم ہو اور جوتا اتار ناراحت کے خلاف ہو تو اس وقت حدیث کا مدعا یہ ہو گا کہ پاؤں کی راحت کی خاطر جوتا پہنے ہوئے کھانا کھایا جائے تا کہ آدمی کی دلجمعی میں فرق نہ آئے اور وہ پوری طرح احساس شکر کے ساتھ کھانا کھا سکے۔
۶۔ اسی طرح حدیث میں متعددروایتیں آئی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا کھانا پسند تھا۔ مثال کے طور پر حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں شہد اور میٹھا پسند فرماتے تھے۔ اس کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ نکال لیا کہ حلوہ کھانا سنت ہے، حلوہ کھانا باعث ثواب ہے۔ مگر ان احادیث کا یہ مطلب نہیں۔
کھانے کے سلسلہ میں جوروایتیں آئی ہیں وہ تقریبا سب کی سب مدنی دور سے متعلق ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues