فہم دین: ایک اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶
یعنی ان روایتوں کاتعلق اس دور سے ہے جب کہ مسلمانوں کے لئے سنگین معاشی مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ اس زمانہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پسندیدہ غذا کیا ہے۔ بلکہ اصل یہ تھا کہ جو کچھ ملے اس کو شکر اور قناعت کے جذبہ کے تحت کھا لیا جائے۔ کھانے کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پسندیدگی کے کلمات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔
اس وقت مدینہ میں جن کھانوں کا رواج تھا ان سب کا نام ان احادیث میں آیا ہے۔ ان حدیثوں کو جمع کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مدینہ کے تمام ہی کھانے رسول اللہ ﷺ کی پسند کے مطابق تھے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا تو درست ہو سکتا ہے کہ مدینہ میں پائے جانے والے تمام کھانے رسول اللہ ﷺ کو پسند تھے۔ مگر یہ بات درست نہیں کہ آدمی ان میں سے کسی ایک روایت کو لے لے اور اس کی بنیاد پر کہے کہ فلاں چیز رسول اللہ ﷺ کو پسند تھی اور اس کو سنت کا نام دے دے۔ سنت ہر چیز کو پسندیدگی کے ساتھ کھانے کا نام ہے نہ کہ کسی ایک چیز کو۔ اسلام کے دور اول میں مدینہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ اس کے معاشی ذرائع محدود تھے۔ جب ہجرت ہوئی اور اچانک مدینہ کی آبادی تقریبا دگنا ہو گئی تو فطری طور پر وہاں معاشی مسائل پیدا ہو گئے ۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد غزوات و سرایا کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور مدینہ کے معاشی وسائل کا بڑا حصہ مستقل طور پر دفاعی ضرورتوں میں صرف ہونے لگا۔ ان اسباب سے مدینہ میں معاشی تنگی کی صورت پیدا ہو گئی۔
اکثر ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور اکثر اصحاب کو روزانہ وقت پر کھانا نہیں ملتا تھا۔ کبھی کبھی فاقہ کی نوبت آ جاتی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: توفی رسول اللہ وما شبعنا من الاسودين (البخاری، مسلم) یعنی مدینہ میں رسول اللہ کی وفات ہو گئی اور ہم کبھی دو چیز سے شکم سیر نہ ہو سکے (کھجور اور پانی)
ان حالات میں بار بار ایسے مواقع پیش آتے تھے کہ ایک انصاری کو یہ خبر ملتی کہ رسول اللہ نے ایک یا دو وقت سے کھانا نہیں کھایا ہے۔ وہ دوڑ کر آپ کے پاس آتا اور آپ کو اپنے گھر لے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues