Al-Risala · July 2000 · page 27

فہم دین: ایک اصول

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷

جاتا۔ اس کے بعد بغیر کسی تیاری کے گھر میں جو کچھ ہو تادہ اس کو آپ کے سامنے پیش کر دیتا۔ یہ زیادہ تر ایسا معمولی کھانا ہوتا تھا کہ انصاری کو اسے رسول اللہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا۔ (ما عاب رسول الله ﷺ طعاما قط)۔

مزید یہ کہ آپ تمام شریفوں سے زیادہ شریف انسان تھے۔ جب کوئی انصاری آپ کے سامنے شرمندگی کے ساتھ ایک معمولی کھانا رکھتا تو آپ یہ کہہ کر کھانا شروع کر دیتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے۔ اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں، خواہ یہ کھانا سوکھی روٹی اور سرکہ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کا یہ قول بظاہر کھانے کے بارے میں ہوتا تھا مگر حقیقۃ اس کا رخ میزبان کی طرف ہوتا تھا۔ آپ میزبان کی شرمندگی مٹانے کے لئے یا اس کی عزت رکھنے کے لئے ایسا کہتے تھے نہ کہ کھانے کی لذت بتانے کے لئے۔ گویا کلام کا رخ اگر چہ بظاہر دستر خوان کی طرف ہوتا تھا مگر اس کا حقیقی رخ میزبان کی طرف ہوتا تھا جو شرمندگی کا احساس لئے ہوئے وہاں موجود ہوتا تھا۔ اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں، ان کو اگر ظاہر معنی میں لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ رسول اللہ کو متضاد قسم کے کھانے پسند تھے۔ میٹھا بھی اور نمکین بھی، گوشت بھی اور سبزی بھی، حتیٰ کہ سالن بھی اور بے سالن بھی۔ اصل یہ ہے کہ مومن کے سامنے جب کوئی کھانا آتا ہے تو وہ اس کو نعمت خداوندی کی نظر سے دیکھتا ہے نہ کہ لذت زبان کی نظر سے۔ اس لئے مومن کو ہر کھانا خدا کی طرف سے بھیجا ہوا رزق معلوم ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ ہر کھانے کو خوش ہو کر کھا لیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ان الله ليرضى عن العبد ان يأكل الاكلة فيحمدہ عليها، او يشرب الشربة فيحمدہ عليها (صحیح مسلم) یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ جب کوئی چیز کھائے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرے یا کوئی چیز پئے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ مومن شکر کی کیفیت کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ رسول اللہ صلی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page