فہم دین: ایک اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں کمال درجہ پر تھے۔ اور جو آدمی کھانا کھاتے وقت شکر کی کیفیت سے لبریز ہو اس کو خدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز اچھی لگے گی۔ وہ ہر چیز کو یکساں طور پر خدا کی نعمت سمجھے گا۔ وہ ہر جائز خوراک کو یکساں پسندیدگی کے ساتھ کھائے گا۔ کھانے کی کسی چیز کو پسند نہ کرنا، اسے لگے گا جیسے کہ وہ خدا کی ایک نعمت کی ناقدری کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں ان میں قدیم عرب کے تقریباً تمام قابل حصول کھانوں کا ذکر ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے جو بھی کھانا آیا اس کو آپ نے پسندیدگی کی نظر سے کھایا۔ اگر آپ کے سامنے روٹی اور نمک لایا گیا تو آپ نے اس کو بھی شوق سے کھایا اور آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : سید ادامكم الملح (ابن ماجه، ابواب الاطعمہ)میں کیوں کہ آپ جو کچھ کھاتے تھے جذبہ شکر کے ساتھ کھاتے تھے، نہ کہ جذبہ لذت کے ساتھ۔
آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے پاس روٹی کا ٹکڑا اور پانی (جلف الخبز والماء) ہو تو گویا کہ اس کو دنیا کی بہترین نعمت کھانے کے لئے مل گئی۔
یہاں ہم کھانے کی ان چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جو سنن ابن ماجہ (ابواب الاطمہ) اور مشکاۃ المصابیح (کتاب الاطمہ) میں منقول ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں :
الثريد (شوربے میں تر کی ہوئی روٹی) القرع (کدو) اللحم (گوشت)
الملح (نمک) الخل (سرکہ) الزيت (زیتون کا تیل) اللبن (دودھ) الحلواء (میٹھی چیز) العسل (شہد) البطيخ (تربوز، خربوز) التمر (کھجور) الذ بد (مکھن) المرقة (شوربة) الشعير (جو) القثاء (ککڑی) الثفل (تلچھٹ)، وغیرہ۔
اس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم عرب قبائل میں جو کھانے رائج تھے، ان سب کے بارے میں آپ نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ خواہ وہ انتہائی معمولی قسم کا کھانا کیوں نہ ہو۔ ایسی حالت میں کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ آپ کو تمام کھانے پسند تھے مگر کوئی سنجیدہ آدمی ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues