Al-Risala · July 2000 · page 41

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱

سوال

ہم لوگوں نے ہندو مسلم میل ملاپ کا ایک منچ بنایا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کو مارگ درشن کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب مذہب ایک ہیں۔ جیسے رام ویسے محمد۔ یہ بات دونوں مان لیں تو آپس میں اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا۔ (بلراج ملک اور وجے آنند ،پانی پت) جواب ہندو مسلم میل ملاپ کا مقصد بہت اچھا ہے۔ مگر "سب مذہب ایک ہیں" کے نظریہ سے یہ مقصد حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لئے کہ یہ بات اصل واقعہ کے خلاف ہے۔ مثلاً ہندو عقیدہ کے مطابق۔ رام خدا کے اوتار تھے، یعنی ان کی صورت میں خود خدا مجسم ہو کر آیا۔ مسلمان اوتار واد کے اس عقیدہ کو نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک محمد ﷺ ایک انسان تھے جن پر خدانے اپنی وحی بھیجی۔ ایسی حالت میں دونوں کو ایک کہنے سے جس چیز کو فروغ ہو گا وہ منافقت (hypocrisy) ہے نہ کہ فرقہ وارانہ میل ملاپ۔

ہندو مسلم میل ملاپ کا منچ بنانے کے لئے مفید طریقہ یہ ہے کہ اس کو سیکولر پیٹرن پر بنایا جائے نہ کہ کسی مذہبی پیٹرن پر۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کانگریس کے لوگ جو اسٹیج بناتے تھے اس پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی کافی تعداد میں آتے تھے۔ تھے۔ مگرآج ہندوتو کو ماننے والے جو اسٹیج بناتے ہیں اس پر زیادہ تر صرف ایک فرقہ کے لوگ آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہندو تو والا اسٹیج بناتے ہیں وہ وہاں سرسوتی دیوی کی وندناکرتے ہیں اور کھڑے ہو کر بندے ماترم گاتے ہیں۔ مسلمان چونکہ ان چیزوں سے بھڑکتے ہیں اس لئے وہ ایسے اسٹیج پر اکٹھا نہیں ہوتے۔ جب کہ کانگریس کے اسٹیج پر اس قسم کی مذہبی رسمیں نہیں تھیں بلکہ وہ بالکل سیکولر انداز میں ہوتا تھا۔ اس لئے وہاں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی یکساں طور پر شریک ہوتے تھے۔

اگر آپ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترک منچ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسی چیزوں سے بچنا ہو گا جو دونوں کے لئے حساس اشو (sensitive issue) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page