Al-Risala · July 2000 · page 42

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲

منچ پر یہ کہیں کہ اجودھیا کے موجودہ عارضی مندر کو ڈھا کر وہاں دوبارہ بابری مسجد بنائی جائے تو ایسے منچ پر مسلمان تو آسکتا ہے مگر وہاں ہندو نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ جانوروں کا ذبیحہ بالکل ختم کر دیا جائے تو ایسے منچ پر ہندو آسکتے ہیں مگر وہاں مسلمان نہیں آئے گا۔ اس لئے آپ کو دونوں فرقوں کے میل ملاپ کا منچ بنانا ہے تو آپ کو یہ کرنا ہو گا کہ اس قسم کے حساس اشو کو نظر انداز کریں اور صرف ان باتوں کو لیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں۔ مثلاً امن، باہمی محبت، سوشل جسٹس، تعلیم، ملک کی مادی تعمیر، سماج سدھار وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت میں ہندوستان کے لئے وہی نمونہ قابل عمل ہے جو یورپ اور امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اس معاملہ کا ایک عملی فارمولا دریافت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پرائیویٹ دائرہ میں ہر آدمی کے لئے مذہب کی مکمل آزادی اور اجتماعی دائرہ میں مشترک مفاد والی باتوں پر زور دینا۔ موجودہ حالات میں ہم کو بھی یہی کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک فرقہ وارانہ میل ملاپ یا مذہبی ہم آہنگی کا بہترین قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ ایک پر عمل کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one, respect all بر صغیر ہند کے تقریباً ۱۵ ملین ہندو اور مسلمان امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہاں دونوں کے درمیان کوئی مذہبی جھگڑا نہیں۔ دونوں نے بڑی تعداد میں مسجد اور مندر بنائے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے انداز پر اپنے مذہبی فرائض کو ادا کرتا ہے۔ پھر اگر امریکہ میں ہندو اور مسلمان مذہبی یکسانیت کے فارمولا کے بغیر اتحاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو یہی چیز ہندوستان میں کیوں ممکن نہیں۔ سوال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ۔ (نکہت کاظمی،نئی نئی دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page