Al-Risala · July 2000 · page 43

اتحاد کا فارمولا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳

جواب

اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں۔ اس طرح کے معاملات کو اسلام میں جذباتی نقطہ نظر سے نہیں دیکھاجاتابلکہ رزلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے (الانعام ۱۰۸) یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینہ کے سب سے بڑے گستاخ عبد اللہ بن ابی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کر لیا۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہو گا۔ چنانچہ عبد اللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا اور اس کو قتل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس وقت عبداللہ بن ابی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا۔ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ ۷ / فروری ۱۹۸۹ کو دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو اب تقریباً ۱۲ سال ہو رہے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس فتوٰی نے صرف الٹا نتیجہ پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانہ پر اسلام کی بدنامی ہوئی۔ اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شور و غل سے اس کے مصنف کو تو زبردست فائدہ حاصل ہوا، جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف اس کا نقصان آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا۔ اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا۔ سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغو اور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع کر کے ختم نہیں کر سکتا۔ عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مر جاتی۔ اس کو نہ کوئی خرید تا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا۔ مگر مصنف کے قتل کے فتویٰ کی بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس طرح ایک نا قابل مارکیٹ کتاب بھی قابل مارکیٹ (marketable) کتاب بن گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس فتنہ کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues

Printed page