خبر نامه اسلامی مرکز ۷ ۱۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۰، صفحہ ۴۹
بی بی سی لندن (ہندی سروس) نے ۸ مئی ۲۰۰۰ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر میڈیا کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ میڈیا کا مزاج یہ ہے کہ وہ سلیکٹیو رپورٹنگ کرتا ہے۔ وہ ہاٹ نیوز کو لیتا ہے اور سافٹ نیوز کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس بنا پر جو لوگ میڈیا پر انحصار کرتے ہیں وہ دنیا کے بارے میں حقیقی تصویر نہیں بناپاتے۔ ۶۔
مطالعہ قرآن، مطالعہ حدیث، مطالعہ سیرت کے نام سے تین کتابوں کے سٹ جو منصوبہ ہے ان میں سے مطالعہ قرآن اللہ کے فضل سے لکھی جا چکی ہے اور اب زیر طبع ہے۔ مطالعہ حدیث اس وقت زیر ترتیب ہے۔ مطالعہ سیرت تیار ہو کر چھپ چکی ہے۔
جامعہ ماس کمیونی کیشن سنٹر (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ۱۶مئی ۲۰۰۰کو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع تھا: عورت اسلام میں۔ اس میں موضوع سے متعلق سوالات کے جواب دئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ عورتیں اگر مردوں کی طرح طلاق کا ذاتی حق حاصل کرنا چاہیں تو اس کا شرعی حل نکاح تفویض کی صورت میں موجود ہے۔ وہ نکاح تفویض کے ذریعہ یہ حق حاصل کر سکتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ تعدد ازدواج کا حکم اس وقت کے لئے ہے جب کہ عورتیں مرد کے مقابلہ میں سرپلس ہو گئی ہوں۔ مثال کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں مردوں کی تعداد کم ہو گئی اور عورتیں بہت زیادہ ہو گئیں ۔ چنانچہ عورتوں نے اپنے دروازہ پر یہ بورڈ لگا لیا کہ رات گزارنے کے لئے ایک مہمان چاہئے: Wanted an evening guest گویا ایسی صورت حال میں انتخاب مونوگیمی اور پولوگیمی کے درمیان نہیں ہے بلکہ مونوگیمی اور سیکشول انارکی کے درمیان ہے۔ ایسی صورت حال میں جدید تہذیب سیکشول انارکی کا چائس لیتی ہے جبکہ اسلام نے پولوگیمی کا چنائس لیا ہے۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں میں سے کون سا چنائس زیادہ بہتر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2000 All issues