Muslims' reservation and education
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷
گرانے کے حالات پیدا کئے ۔ اسلامی شریعت کے مطابق ، ہندو لیڈر شپ اگر مسجد کو گرانے کی ذمہ دار ہے تو مسلم لیڈر شپ اس کو گرانے کی ذمہ دار ہے۔
مغرب سے کچھ پہلے اجتماع گاہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں مظفر نگر کے مختلف علاقوں کو دیکھا۔ ساتھیوں سے شہر کے بارہ میں ضروری معلومات حاصل کیں۔
۲۳ اکتوبر کی شام کو مغرب کی نماز اجتماع گاہ کے قریب شیعہ مسجد میں پڑھی۔ ہم لوگوں نے مسجد کے صحن میں اپنی جماعت کی ، ہماری نماز جب ختم ہوگئی اور افق پر کسی قدر اندھیر محسوس ہونے لگا، اس وقت پیچھے سے اذان جیسی آواز آئی۔ ایک شیعہ مؤذن اوپر چڑھ کر اپنی اذان دے رہے تھے۔ ان کے الفاظ سنی اذان سے کسی قدر مختلف تھے۔
نمازِ مغرب کے بعد سیمنار کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس کا موضوع ، مطبوعہ کارڈ کے مطابق یہ تھا: مسلمانوں کا رزرویشن اور تعلیم:
Muslims' reservation and education
مقررین کے نام یہ ہیں ایس نذر محمد زیدی ایڈوکیٹ، مسٹر اجمل الرحمن، مسٹر شاہد صدیقی ، پروفیسر اقبال حسین، ڈاکٹر ایس یو خان، حاجی عقیل احمد۔
میں نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے سب سے آخر میں تقریر کی۔ پہلے میں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ میں نے کہا کہ زمانہ رسالت میں مدینہ میں جو سب سے پہلا اسکول کھولا گیا اس کے تمام ٹیچر مشرک تھے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اس سنت کی خلاف ورزی کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف مسلم اسکول میں پڑھائیں گے۔ ہندو اسکول اور کرسچین اسکول میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجیں گے۔ اسی پالیسی پر مسلمان تقریباً سو سال تک چلتے رہے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے موجودہ مسلمانوں کو تعلیم میں پیچھے کر دیا۔
اب جو لوگ رزرویشن کی بات کر رہے ہیں وہ گویا اپنی غلطی کی قیمت دوسروں سے وصول کرنا چاہتے ہیں ، مگر اسباب کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues