ایک کتاب
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۸
دوسری بات یہ کہ موجودہ دنیا کے بعد دوسری جو معیاری دنیا بننے والی ہے اس میں صرف ان افراد کو جگہ ملے گی جو آج کی دنیا میں اپنی روحانی تطہیر کر لیں۔ جو لوگ آج کی غیر معیاری دنیا میں اپنی روحانی تطہیر کرنے میں ناکام رہیں وہ اگلی دنیا میں صرف وہاں کے کوڑے خانہ میں جگہ پائیں گے۔ عالم فطرت میں جو کچھ ہے وہ سب خدا کی صفاتِ کمال کا مظہر ہے۔ یہاں خالق اپنی تخلیقات میں نمایاں ہوا ہے۔ اس طرح فطرت کی دنیا ہمارے لئے خالق کی معرفت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ہم خالق کو نہیں دیکھتے مگر ہم اس کی تخلیقات میں اس کے جلوؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح فطرت ہمارے لئے خالق فطرت سے قربت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ایک حقیقی انسان فطرت کے اندر خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے، ہواؤں کے جھونکے اس کو لمس خداوندی کا تجربہ کراتے ہیں۔ روشن آفتاب کی صورت میں وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ خلاء کی وسعتیں اس کو خدا کی بے پناہ عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔ دریاؤں کی روانی اس کو خدا کی رحمت سے آشنا کرتی ہے۔ فطرت کے بے پناہ حسن میں وہ خالق کے بر تر حسن کا مشاہدہ کرتا ہے۔ چڑیوں کے نغمے میں اس کو چڑیوں کے خالق کی حیات بخش آواز سنائی دیتی ہے۔ دنیا میں بکھرے ہوئے ہر قسم کے سامانِ حیات اس کو یقین دلاتے ہیں کہ اس کا خالق ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے بے خبر نہیں۔ اس طرح موجودہ دنیا میں زندگی کا ہر تجربہ اس کے لئے خالق کے تعارف کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
اس طرح کے لطیف تجربات کے درمیان آدمی کی روحانی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ وہ عام انسان سے ترقی کر کے ایک ربانی انسان بنتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے وجود کے اندر وہ کامل انسان بن کر تیار ہو جاتا ہے جو خدا کے پڑوس میں رہنے کے قابل ہو۔ — اسی خدائی پڑوس کا دوسرا نام جنت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues