Al-Risala · August 2000 · page 9

کبر کی علامت

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۹

کبر کی علامت

ایک شخص اگر کسی آدمی پر بے بنیاد الزام لگائے، اس کو غلط طور پر بدنام کرے۔ اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل کرے، تو یہ بلاشبہ ایک بدترین گناہ ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جس کو غلطی کرنے کے بعد اس کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہ ہو۔ ایسا آدمی اللہ کی نظر میں مبغوض ترین انسان ہے۔ اس کو کبھی اللہ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔

دوسرا شخص وہ ہے جسے بعد کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے خواہ یہ احساس اپنے ضمیر کی بنیاد پر ہوا ہو یا فریق ثانی کی وضاحت اور دلائل کی بنیاد پر۔ اب یہ شخص اگر ایسا کرے کہ اپنے ظاہری رویہ کو بدل لے اور فریق ثانی سے دوبارہ اپنے تعلق کو بحال (patch up) کرلے تو اس کا ایسا کرنا صرف ایک سماجی فعل ہوگا۔ دینی معنوں میں وہ کوئی عبادتی فعل نہ ہوگا۔

جب کوئی شخص مذکورہ قسم کا مجرمانہ فعل کرتا ہے تو یہ دراصل کبر کی نفسیات کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہ اظہار کبر کا ایک معاملہ ہوتا ہے نہ کہ سادہ طور پر محض سماجی آداب کی خلاف ورزی کا معاملہ۔ ایسی حالت میں اگر وہ شخص صرف یہ کرے کہ عملی طور پر فریق ثانی سے اپنے تعلق کو بحال کرلے تو اس کے ایسا کرنے سے برائی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اصل برائی جس کا اس نے ارتکاب کیا وہ تو متکبر تھا۔ پھر سماجی آداب کی سطح پر ازالہ کرنے سے اصل جرم کا ازالہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جب ایک شخص مذکورہ قسم کا جرم کرنے کے بعد صرف یہ کرے کہ وہ ظاہری طور پر فریق ثانی سے تعلق کو بحال کرلے مگر اپنی زبان سے غلطی کا کھلا اعتراف نہ کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا اصل جرم (تکبر) بدستور اس کے سینہ کے اندر موجود ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا دل تکبر سے خالی ہو تا تو اس کو اس وقت تک تسکین نہ ملتی جب تک وہ اپنی زبان سے اس کا اقرار نہ کرلیتا۔ قولی اعتراف آدمی کے متواضع ہونے کا ثبوت ہے اور قولی اعتراف نہ کر کے ظاہری تعلق کو بحال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات میں جی رہا ہے۔ وہ اپنے کبر کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page