کبر کی علامت
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰
بت کو توڑنے کے لئے تیار نہیں۔
اس معاملہ کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں ملتی ہے۔ امرأة عزیز نے حضرت یوسف علیہ السلام پر ایک بے بنیاد الزام لگایا۔ بعد کو حقیقت ظاہر ہوئی تو اس نے کھلے طور پر کہا کہ ”اب حق واضح ہو گیا۔ اس معاملہ میں غلطی میری ہی تھی اور یوسف بلاشبہ سچے ہیں“ (یوسف ۵۱) حق کی وضاحت کے بعد اگر امرأة عزیز صرف یہ کرتی کہ ظاہری طور پر اپنی روش کو درست کر لیتی اور زبان سے اس کا اعلان نہ کرتی تو اس کا جرم کبھی ختم نہ ہوتا۔ مگر جب اس نے اپنی زبان سے کہا کہ ساری غلطی میری ہے اور یوسف بلاشبہ بری الذمہ ہیں تو اس کا جرم معاف ہو گیا اور اس کا درجہ بلند ہو گیا۔
اسلامی شریعت کے مطابق ، کبر ایک ایسی روش ہے جو اللہ کے نزدیک نا قابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال ذرة من كبر۔ (مشکاۃ المصابیح ۱۳۱۳/۳) یعنی وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل کے اندر ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ کبر کی پہچان کیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، کبر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے سامنے ایک حق بات پیش کی جائے مگر وہ اس کو صرف اس اندیشہ کی بنا پر نظر انداز کر دے کہ اس کو قبول کرنے کی صورت میں اس کی حیثیت عوام کی نظر میں گھٹ جائے گی۔ وہ کسی ایسے حق کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو جو بظاہر اس سے کمتر کسی آدمی کی طرف سے پیش کیا گیا ہو۔
اس دنیا میں ہر قسم کی بڑائی صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اس کے سوا کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ اگر بظاہر کوئی بڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف اس کے امتحان کا ایک پرچہ ہے نہ کہ اس کی واقعی حیثیت کا اظہار۔ ایسی حالت میں جو شخص بڑائی پا کر جھک جائے وہ امتحان میں پورا اترا۔ اور جو شخص بڑائی پا کر متکبر بن جائے وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اللہ کے یہاں اس کے لئے ذلت کی سزا کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues