دردناک انجام
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱
دردناک انجام
دمشق کی تاریخ کے ساتھ جن لوگوں کے نام شامل ہیں ان میں سے ایک ٹی ای لارنس (T.E.Lawrence) ہے۔ یہ ایک انگریز تھا جو ۱۸۸۸ء میں پیدا ہوا۔ اس نے عرب علاقہ کی تاریخ پڑھی اور عربی زبان سیکھی۔ اس کے بعد عربی لباس پہن کر عربوں کے درمیان داخل ہو گیا۔ ۱۹۱۴ء کے درمیان اس نے دمشق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس وقت عرب ممالک بشمول شام پر ترکوں کی حکومت تھی۔ لارنس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ عربوں میں ترکوں کے خلاف نفرت پیدا کر دی۔ یہاں تک کہ عربوں کے اندر عرب قومیت کا جذبہ اتنی شدت سے ابھرا کہ انھوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ لارنس کی یہ کہانی حسب ذیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے:
Lawrence of Arabia, by Richard Aldington
کرنل لارنس بظاہر اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ مگر اس کا آخری انجام نہایت دردناک تھا۔ انگریزی حکومت نے اس کو اس کے حوصلہ کے بقدّر "انعام" نہیں دیا۔ وہ مایوسی کے عالم میں ۲۶ فروری، ۱۹۳۵ء کو رائل ایئر فورس سے ریٹائر ہو گیا۔ اس کے بعد وہ اپنے آخری ایام گزارنے کے لئے کلاوڈس ہل (Clouds Hill) چلا گیا۔ وہ ایک شکستہ دل انسان کی طرح یہاں اپنے صبح و شام گزار رہا تھا کہ ۱۳ مئی ۱۹۳۵ء کو موٹر سائیکل کے حادثہ میں شدید زخمی ہو گیا۔ اور چھ دن تک بے ہوش رہ کر مر گیا۔
A motorcycling accident on May 13, (1935) solved
the problem of his future. He died six days later without regaining consciousness (10/727)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues