Al-Risala · January 2000 · page 48

Muslims' reservation and education

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸

میں نے کہا کہ ۱۹۷۲ سے مسلم لیڈر بار بار یہ غلطی کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی شوشہ والی بات میں الجھا دیتے ہیں۔ مثلاً مسلم یونیورسٹی، اردو، مسلم پرسنل لا، معاہداتی سیاست، بابری مسجد، وغیرہ۔ اب اسی قسم کا نیاشوشہ ریزرویشن کی صورت میں نکالا گیا ہے۔ یہ ہمارا اصل اشو نہیں ہے۔ یہ اشو کو چھوڑ کرنان اشو میں قوم کو الجھانا ہے۔ اس قسم کی سیاست کو ہمیں چھوڑنا پڑے گا ورنہ ہم کبھی ترقی کا درجہ حاصل نہ کر سکیں گے۔

سیمنار کے بعد ’’سر سید ڈنر‘‘ ہوا۔ لوگوں نے بڑی دھوم سے کھایا۔ میں تو سادہ کھانا کھانے کا عادی ہوں۔ اس لئے میں اس پروگرام میں نیم دلانہ شرکت کی، زیادہ پر جوش طور پر میں اس میں شریک نہ ہو سکا۔

ایک صاحب نے جنگ جویانہ انداز میں کہا: آپ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کے معاملہ میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ مسلمانوں نے کب ٹکراؤ کیا۔ وہ تو چپ چاپ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ انھوں نے ہمارے گھروں میں گھس کر ہمارے ساتھ ظلم کیا۔

میں نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف یہ کہا کہ آپ اس وقت جس انداز میں بول رہے ہیں اسی کا نام ٹکراؤ ہے۔ آپ تو خود ہی اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ ہم میں ایسے لوگ ہیں جو غیر ضروری طور پر ٹکراؤ کر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد وہ فساد پیدا ہوتا ہے جس کا نتیجہ تمام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ سیمنار علی گڑھ کے اولڈ بوائز کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ایک صاحب نے ایک مطبوعہ کاغذ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کی ایک خصوصی میٹنگ ۵ اکتوبر ۱۹۹۲ کو علی گڑھ میں ہوئی ۔ اس میں متفقہ طور پر ایک رزولیوشن پاس ہوا جو ڈاکٹر مظفر حسین صدیقی ( (آنریری سکریٹری ) کے دستخط سے پریس کو برائے اشاعت بھیجا گیا ہے۔

اس رزولیوشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کی حالت انتہائی حد تک بگڑ چکی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page