Al-Risala · August 2000 · page 17

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷

حکومت کا بجٹ تو بدستور مزید اضافہ کے ساتھ بنتا رہا مگر کرپشن کی بنا پر اس کی بیشتر رقم قومی ترقی کے کاموں میں خرچ نہ ہو کر افراد کے جیبوں میں جاتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۷کے بعد ہمارے ملک میں جو نئے نئے مسائل پیدا ہوئے ان سب کا سبب ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہاں کا بڑھا ہوا کرپشن ہے۔

۹ اپریل ۲۰۰۰کو صبح سویرے میں نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ سورج نکلنے میں چند منٹ کی دیر تھی۔ اسٹیشن پر لوگ بڑی تعداد میں سرگرم دکھائی دئے۔ ہر آدمی تیزی سے اپنی منزل کی طرف بھاگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ کیا چیز ہے جو ان لوگوں کو اس طرح مسلسل سرگرم کئے ہوئے ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ وہ صرف سیلف انٹر یسٹ ہے۔ فطرت نے ہر آدمی کے اندر سب سے طاقتور جذ بہ انٹر یسٹ کا رکھا ہے۔ وہی ہر آدمی کو متحرک کئے ہوئے ہے۔ اگر انٹر یسٹ نہ ہو تو پوری زندگی ٹھہر کر رہ جائے گی۔ سوچتے ہوئے پھر میرا ذہن اس سوال پر گیا کہ کیا وجہ ہے کہ سوشلسٹ سسٹم دنیا میں ناکام ہو گیا۔ روس سے لے کر انڈیا تک ہر جگہ اس کی کہانی یہی ہے۔ اس کے بر عکس بدنام سرمایہ داری سسٹم اتنا زیادہ کامیاب ہے کہ آج بڑے بڑے سوشلسٹ لیڈروں کے بیٹے اور پوتے بھاگ بھاگ کر امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ بد نام سرمایہ داری نظام فطرت کے اصول پر قائم ہے جو کہ سیلف انٹر یسٹ پر مبنی ہے۔ اس کے بر عکس نام نہاد سوشلسٹ نظام مصنوعی آئیڈیالوجی پر قائم کرنے کی ایک کوشش تھی جو کہ فیل ہوگئی۔

شتابدی اکسپریس اپنے ٹھیک وقت پر سات بجے دہلی سے روانہ ہوئی۔ میرے قریب والی سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ ان کا نام روہت ورماہے ان کی عمر ۱۸ سال تھی۔ وہ احمد آباد میں اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ (423344-Tel) وہ دہرہ دون نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں ٹیسٹ دینے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اب تک ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page