Al-Risala · August 2000 · page 18

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۸

ملاقات نہ کسی مسلمان سے ہوئی، ،اورنہ اسلام یامسلمانوں کے بارے میں انہوں نے کچھ پڑھا۔ میں ان کی زندگی میں پہلا مسلمان تھا جس کے ساتھ انہوں نے ۳ گھنٹہ سفر کیا اور بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ میرے اسکول میں نہ کوئی مسلمان اسٹوڈینٹ ہے اور نہ کوئی مسلمان ٹیچر۔ میں نے سوچا کہ دو فرقوں کے درمیان اس دوری کا سبب کیا ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ ان مسلم رہنماؤں پر ہے جنہوں نے ناقابل فہم طور پر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا۔ موجودہ زمانہ میں اسکول اور کالج دونوں فرقوں کے لئے فطری میٹنگ گراؤنڈ بن رہے تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں کی غلط تعلیمی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نوجوان اس میدان میں پہنچ ہی نہ سکے جہاں جدید تاریخ نے ان کے لئے ملاقات ملاقات(انٹرایکشن )کاانتظام کیاتھا۔ ٹرین میں اخبارات پڑھنے کے لئے دئے گئے۔ سنڈے آبزرور(۹؍اپریل)میں (۹ اپریل) میں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ وہ آج کل اس حیثیت سے مشہور ہو رہے ہیں کہ آندھرا پردیش کو انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں پہنچائیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ جدید ٹکنیک سرخ فیتہ شاہی کو ختم کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوگی جو انڈیا کی بیورو کریسی میں بہت زیادہ سرایت کر چکی ہے۔

It may prove to be a good tool to remove the red-tapism so inbuilt in Indian bureaucracy. تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہماری ٹرین سہارنپور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ یہاں کئی لوگ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ڈاکٹر جی۔ بی لال ( G.B. Lal)، جناب سبودھ کانت شرما، جناب محمد سلیم رومانی، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر شبیر احمد بیگ، ذوالنور احمد، لئیق احمد، راجیو، منوج، دانش خان، حکیم نفیس الرحمٰن، وغیرہ۔

ٹرین میں میں نے مسٹر روہت ورماسے کہاتھاکہ میراڈریم یہ ہے کہ اس ملک کے ہندو مسلمان ایک فیملی کی طرح مل جل کر رہنے لگیں۔ پلیٹ فارم پر جب میں نے دیکھا کہ ہندو مسلم دونوں میرے انتظار میں ہیں اور جیسے ہی میں اپنی کوچ سے نکل کر باہر آیا تو وہ پھولوں کے ہار کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page