مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹
ساتھ میری طرف بڑھے تو میری آنکھوں میں شدت احساس سے آنسو آگئے۔ اس بات کے لئے نہیں کہ وہ میرا سواگت کر رہے تھے، بلکہ اس مشترک گروپ کی صورت میں مجھے مستقبل کا انڈیا دکھائی دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس ملک میں بہت جلد وہ دور آنے والا ہے جبکہ ہندو اور مسلمان سچ مچ ایک فیملی کی طرح مل جل کر رہنے لگیں گے اور دونوں مل کر اس عظیم ہندوستان کی تعمیر کریں گے جس کا خواب ہمارے قومی معماروں نے دیکھا تھا۔
ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو کر ہم لوگ ڈاکٹر محمد اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ یہاں سہارنپور کے تعلیم یافتہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک مجلس میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، میں نے اپنی عادت کے مطابق لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنے اپنے تجربات بتائیں۔ چنانچہ مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیالات پیش کئے، ان سب کے خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ آج کی زندگی میں مذہب کا وہ زول ختم ہو گیا ہے جو پچھلے زمانوں میں تھا۔ پچھلے زمانہ میں ہر آدمی خدا سے ڈرتا تھا۔ خدا کا خوف اس کو غلط کاموں سے روک دیتا تھا۔ اب آزادی اور ڈیموکریسی کے دور نے ہر آدمی کا مزاج یہ بنا دیا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس مزاج نے لوگوں کو بے خوف بنا دیا ہے اور یہی بے خوفی تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔
ڈاکٹر شاہد صابری (ایم۔ ایڈ) نے بتایا کہ ۱۹۸۳ میں انہوں نے ناخواندگی ہٹاؤ کے مقصد کے تحت لوگوں کو ساتھ لے کر کام کرنا چاہا مگر تجربہ کے بعد محسوس ہوا کہ حقیقی معنوں میں ساتھ دینے والا کوئی نہیں، البتہ رکاوٹ کے لئے ہر آدمی تیار ہے۔ اسی کشمکش میں کئی سال بیت گئے۔ آخر کار آٹھ سالہ تجربہ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ساتھ دے یا نہ دے ان کو اب اکیلے ہی یہ کام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو اور اپنے وسائل کو بھرپور طور پر اس تعلیمی مشن میں لگا دیا۔ ۱۹۸۳ میں میں نے پہلی کلاس کھول کر نامساعد حالات میں یہ کام شروع کیا تھا۔ اب ۲۰۰۰ میں خدا کے فضل سے ہمارا ادارہ انٹر میڈیٹ تک پہنچ چکا ہے۔ تقریباً پانچ سو طلبہ ہمارے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ‘‘
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues