مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰
جناب سبودھ شرما ایڈوکیٹ نے ایک بنیادی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج جب میں ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑا تھا تو وہاں کا منظر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہاں بظاہر بہت سے لوگ کھڑے ہوئے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک یہاں صرف اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی ٹرین آئے اور وہ اس پر بیٹھ کر یہاں سے روانہ ہو جائے۔ ہماری زندگی بھی اسی قسم کا ایک سفر ہے۔ مسٹر راجیو کوشک (ایم۔ بی۔ اے) نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جس طرح کے سماج میں زندگی بتائی، آج کا سماج اس سے بہت زیادہ الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے پریوار میں ہوتے ہیں تو وہاں ہم پاتے ہیں کہ ہر ایک دوسرے کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی ترقی پر خوش ہوتا ہے۔ پہلے ایسا تھا کہ جو ماحول آدمی کو اپنے پریوار میں ملتا تھا وہی ماحول اس کو باہر آکر سماج میں بھی ملتاتھا۔ مگر مگر آج ایسا نہیں ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہم جب اپنے پریوار میں ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنوں کے بیچ میں ہیں مگر جب ہم پریوار سے نکل کر سماج میں آتے ہیں اور کچھ کام کرنا چاہتے ہیں تو اچانک یہاں دوسرا ماحول ملتا ہے۔ ہم پاتے ہیں کہ یہاں مدد کرنے کے بجائے رکاوٹ ڈالنے کا ماحول ہے۔ ترقی پر خوش ہونے کے بجائے اس پر جلن کا ماحول ہے۔ ہر ایک دوسرے کو غیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی آج کی سب سے بڑی سمسیاہے اس کو کیسے حل کیا جائے۔
بی۔ پی دیش بھگت (۸۳ سال) ۱۹۷۱ سے پولینکس کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ پارٹی کا نام بھارتیہ سماج وادی مورچہ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پولیکل کرپشن ہے۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری پارٹی پاور میں آجائے گی تو ہم دیش کو بھرشٹا چار سے مکت کر دیں گے۔
میں نے کہا کہ بہت سی پارٹیاں بھرشٹا چار مٹاؤ کے اشو کو لے کر اٹھیں مگر جب وہ الیکشن جیت کر پاور میں آگئیں تو انہوں نے خود بھی بھرشٹا چار کا وہی کام شروع کر دیا جو دوسرے لوگ کر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues