مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱
رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ایکسپلائٹیشن کے ذہن کے تحت کرپشن کو اپنا لیکشنی ایشو بنائیں۔ ایسے لوگ وہی کریں گے جن کی آپ نے مثال دی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ایمان دار سماج بنانا آپ کا اصل مقصد ہو اور اس مقصد کو لے کر آپ اپنی پوری تحریک چلائیں، صرف الیکشن کے وقت نہیں، بلکہ اپنی پوری زندگی کے لئے آپ کا یہی مشن ہو۔ اس دوسری قسم کے لوگ جب فطری عمل کے تحت پاورمیں آتے ہیں تو وہ ان سے مختلف ہوتے ہیں جو لیکشنی پولیٹکس کے ذریعہ پاور میں آجائیں۔ 9 اپریل کو مسلسل لوگ میری قیام گاہ پر آتے رہے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں اتنا زیادہ تعصب ہے کہ مسلمانوں کو ہر شعبہ میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ مسلمانوں کی ترقی کا کیا نسخہ بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمان تو ہر وقت ہی ترقی کر رہے ہیں۔ ہمیں اس مقصد کے لئے کسی نئے نسخہ کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام کسی کے تعصب یا سازش پر نہیں چل رہا ہے، بلکہ فطرت کے قانون پر چل رہا ہے اور فطرت کا قانون کسی تعصب کے بغیر ہر ایک کو ترقی کا موقع دے رہا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ ہماری موافقت میں ہو گیا ہے۔ آج ہم ایک نئے دور میں جی رہے ہیں۔ یہ دراصل اقتصادی انفجار کا دور ہے۔ اس زمانہ میں اقتصادی ترقی کے مواقع عمومی سیلاب کی طرح ہر انسان تک پہنچ رہے ہیں۔
پھر میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں ننگے جسم اور ننگے پاؤں والے لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے۔ اس حدیث پر غور کیجئے۔ یہ حدیث دراصل جدید صنعتی دور کی پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ دولت کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہو گا کہ وہ عام لوگوں تک پہنچ جائے گا۔ نوبت یہاں تک آئے گی کہ وہ لوگ جو غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی بڑی بڑی کمائی کریں گے، اور بڑے بڑے گھر بنائیں گے ۔ آپ جانتے ہیں کہ گھر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues