Al-Risala · August 2000 · page 22

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲

آدمی کی معاشی حالت کی پہچان ہوتا ہے۔ بڑے گھر کا مطلب ہے معاشی خوش حالی۔ میں نے کہا کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ الا المسلمون، یعنی تمام لوگ دولت مند ہو جائیں گے سوائے مسلمانوں کے۔ پھر آپ لوگ اس قسم کی بات کیوں کرتے ہیں۔ ۹ اپریل کی شام کو سہارنپور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ودھ کیندر (چندر نگر) میں تھا اس میں زیادہ تر ہندو صاحبان تھے۔ یہ زیادہ تر وکیل اور ڈاکٹر لوگ تھے۔ کچھ افراد ایسے بھی تھے جو ہندو قوم پرست تنظیموں کے لیڈر تھے۔

یہ اجتماع دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک رہا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ زیادہ تر ہندو صاحبان اسلام کے بارے میں سوالات کرتے رہے، اور میں ان کا جواب دیتا رہا۔ اکثر سوالات اختلافی نوعیت کے تھے، مگر پوری گفتگو کے دوران کسی قسم کی کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔

میں نے تمام سوالات کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیا۔ لوگ اتنا متاثر ہوئے کہ لوگوں نے بتایا کہ کئی ہندوؤں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایک صاحب جو ایک کٹر ہندو تنظیم کے سکریٹری ہیں انہوں نے آخر میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب جس طرح اسلام کو پیش کرتے ہیں اگر اسی طرح دوسرے لوگ بھی اسلام کو پیش کریں تو اسلام ساری دنیا کا مذہب بن جائے۔

ایک اور ہندو وکیل نے کہا کہ تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر اتنا شدید تھا کہ لوگ اپنے احساس کا اظہار کرنے کے لئے الفاظ نہیں پا رہے تھے۔ بس یہ کہتے تھے کہ ـــــــــ ونڈر فل، مارولس۔ بس اس طرح کے الفاظ بول رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر فطرت کی زبان میں کلام کیا جائے تو اسلام ہر ایک کو خود اپنی چیز نظر آئے گا۔ مگر جب ایسی زبان استعمال کی جائے جو سننے والے کو ایک فرقہ کی وکالت نظر آئے تو فوراً دوسرے فریق کے اندر ضد اور دفاع کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اسلام کو اپنی چیز کے بجائے ”غیر“ کی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر سنانے اور سننے والے کے درمیان وہ صحیح ربط ہی نہیں قائم ہوتا جو مثبت دعوتی عمل کے لئے ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page