Al-Risala · August 2000 · page 23

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳

۹ اپریل کی شام کو دیودت کلا کیندر کے اجتماع میں ایک پولیس افسر بھی شریک تھے۔ انہوں نے اسلام کے بارے میں کئی سوالات کئے_ ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اجتماع کے بعد اپنے تاثر کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔

جب آدمی آنکھ سے دیکھتا ہے تو وہ کچھ دوری تک دیکھ لیتا ہے جب چشمہ لگا کر دیکھتا ہے تو کچھ زیادہ دوری تک دیکھ لیتا ہے۔ جب دور بین سے دیکھتا ہے تو کافی دوری تک دیکھ سکتا ہے۔ اور جب اوپر منزل پر کھڑے ہو کر دیکھتا ہے تو کافی کچھ دیکھتا ہے اور جب ہیلی کاپٹر سے دیکھتا ہے تو وہ پورے شہر کو دیکھ لیتا ہے۔ مولانا اتنی اونچائی پر پہنچ چکے ہیں جس سے وہ پورے مانو سماج کو اسی انداز میں دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی ہیلی کاپٹر سوار دیکھتا ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے ایک کاغذ پر لکھ کر مجھے دئے۔

"آپ کا بھاشن ان لوگوں کے لئے بہت خطرناک ہے جو اپنی سوچ روپی کانچ کے مرتبان کی یتن پور وک رکھا کرتے آ رہے ہیں۔ آپ کے سہج شبد اس ادھوری ووکرت سوچ کو توڑ دیتے ہیں۔ " آپکا بھاشن ان لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے جو اپنی سوچ روپی کانچ کے مرتبان کی یتن पूर्वक रक्षा. کرتے آ رہے ہیں ۔ آپ کے سہج شبد اس ادھوری و विकृत سوچ کو توڑ دیتے ہیں ۔

-Subodh Sharma Advocate, Saharanpur 0132-644020,644752,(M)9837093422 ایک صاحب نے کہا کہ آپ مشرکوں اور کافروں کے جلسوں میں جاتے ہیں_ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : اتقوا مواضع ‌التُّهَمِ (یعنی تہمت کی جگہوں سے بچو) میں نے کہا کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ اگر اس کا یہ مطلب ہو تا تو رسول اللہ ﷺ عرب کے مشرکوں اور کافروں کے مقامات اجتماع میں نہ جاتے_ جب کہ یہ ثابت ہے کہ آپ ایسے مواقع پر برابر جاتے تھے۔

اصل یہ ہے کہ اس کا تعلق نیت سے ہے اگر آپ غیر مسلموں کے اجتماع میں دعوت دین کے مقصد سے جائیں تو یہ عین سنت نبوی کی پیروی ہوگی_ البتہ اگر آپ ایسے مواقع پر کسی غلط

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page