Al-Risala · August 2000 · page 24

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴

مقصد کے تحت جائیں تو یہ البتہ ممنوع اور قابل اعتراض ہے۔

ڈاکٹر محمد اسلم خان صاحب اپنی میڈیکل پریکٹس کے علاوہ اسلام پر بھی کافی مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک ملاقات میں انہوں نے خود اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے : موجودہ زمانہ میں علم کاارتقاء P.H.D لیول کو پہنچ گیا ہے۔ اب ہمیں اسی لیول پر اسلام کی نمائندگی کرنا ہے۔ آج کا انسان جس علمی سطح پر کسی چیز کو سمجھنا چاہتا ہے اسی علمی سطح پر اگر وہ اسلام کوپائے گا تو اسے قبول کرے گا، ورنہ وہ اسے رد کر دے گا۔

میں خوش قسمت ہوں کہ میں اس دور میں پیدا ہوا ہوں جس دور میں مولانا وحید الدین خاں کا فکر عالمی سطح پر پرواز کر رہا ہے۔ تمام دیگر مسلم اہل قلم اس صحیح فکر کے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔

عصمت آرا (۴۰ سال) ڈاکٹر محمد اسلم صاحب کی اہلیہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کی مسلسل تعلیم یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ ٹکراؤ سے درگزر کرتے ہوئے اپنے خاص مقصد یعنی دعوت کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے۔

مس ارم قدسیہ (۱۴ سال) ڈاکٹر محمد اسلم کی صاحبزادی ہیں۔ ان کو تعلیم کا بہت شوق ہے خاص طور پر انگریزی زبان سیکھنے سے بہت دلچسپی ہے۔ ان کا جذبہ یہ ہے کہ وہ انگریزی سیکھ کر دین کی خدمت کریں۔ انہوں نے اپنے تیار کئے ہوئے کئی چارٹ دکھائے۔ ان میں سے ایک چارٹ کا مضمون یہ تھا :

It is too dangerous to leave politics to politicians alone, similarly, too hazardous to leave theology to theologians alone. -Mustafa, Chief Mufti of Bosnia. ایک صاحب نے موجودہ زمانہ کی بعض مسلم شخصیتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کو امت میں زبردست کامیابی ملی۔ میں نے کہا کہ کامیابی نہ کہئے بلکہ ذاتی مقبولیت کہئے۔ مقصد میں کامیابی اور شخصی مقبولیت میں فرق ہے۔ غور کیجئے تو ان میں سے کوئی بھی اس معنی میں کامیاب نہیں ہوا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page