Al-Risala · August 2000 · page 25

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

اس کی کوششوں سے امت میں حقیقی زندگی پیدا ہو جائے ۔ البتہ ان کے گرد لو گوں کی بھیڑ اکٹھا ہو گئی۔

میں نے کہا کہ ان لوگوں کی مقبولیت کاراز یہ تھا کہ انہوں نے ایک زوال یافتہ قوم کو اس کی زوال کی سطح پر اس کی پسندیدہ خوراک فراہم کر دی ۔ کسی نے لوگوں کی فخر پسندی کو غذا دی۔ کسی نے لوگوں کی جذباتیت کے مطابق انہیں خوراک مہیا کی۔ کسی نے ایسا نسخہ فراہم کیا کہ لوگوں کو بے عملی میں عمل والے فائدے ملتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ کسی نے جنت کے سستے ٹکٹ تقسیم کرنے کی کھڑکیاں کھول دیں۔ کسی نے ایسا نظریہ دیا جس میں سیاسی ہنگامہ آرائی اعلی اسلامی عمل دکھائی دیتا تھا۔ کسی نے ایسے خوشنما تخیلات دئے جن میں لفظی بلند پروازی سے حقائق کی منزلیں طے ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی باتوں کے ذریعہ مقبولیت حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے خارش زدہ آدمی کو کھجلانے کا نسخہ بتا دیا جائے۔

ایک مجلس میں چھوٹے مکان اور بڑے مکان کا تذکرہ ہوا۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ کل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا ، إلا مالا (ہر عمارت اس کے مالک کے لئے وبال ہے۔ سو اس عمارت کے جو بالکل ضروری ہو)۔

میں نے کہا کہ بڑا مکان اگر ضرورت کے لئے ہو تو وہ یقیناً جائز ہے مگر عام طور پر ایسا ہے کہ لوگ بڑا مکان اس لئے بناتے ہیں کہ سماج میں اونچا درجہ حاصل کر سکیں۔ یہی وہ مکان ہے جس کے بارہ میں اس حدیث میں انتباہ دیا گیا ہے۔ اس قسم کا مکان لوگوں کے اندر احساس فخر پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر یہ نہایت پست چیز ہے۔ کسی انسان کا درجہ در و دیوار سے متعین نہیں ہو تا، بلکہ اخلاقی صفات اور روحانی اقدار سے متعین ہو تا ہے۔ چنانچہ اکثر لوگوں کے لئے شاندار مکان صرف ان کے لئے اور ان کے بچوں کے لئے شاندار قبر بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے مکان میں صرف ایسے لوگ رہتے ہیں جو دینی اور اخلاقی اعتبار سے مر چکے ہوں۔ کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر لوگ غربت کو بد نصیبی اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page