Al-Risala · August 2000 · page 26

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶

دولت مندی کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ مگر ایسا سمجھنا غلط ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ دنیا امتحان کے لئے ہے۔ یہاں ہر چیز امتحان کے لئے ہے۔ غربت بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے اور دولت مندی بھی امتحان کا ایک پرچہ۔ کسی کو خدا بے زور حالت میں آزماتا ہے اور کسی کو زور اور طاقت دے کر آزما رہا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ ان چیزوں کو نہ یافت سمجھے اور نہ محرومی۔ وہ اپنی ہر حالت کو امتحان کی حالت سمجھے۔ اس کی ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ اس امتحان میں پورا اترے جس میں مبتلا کر کے اس کا خدا اسے آزما رہا ہے۔

سفروں میں آدمی کی جگہ بدلتی ہے۔ ملاقاتوں کا دائرہ بڑھتا ہے۔ نئے نئے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اس طرح مختلف قسم کے لوگوں کے خیالات سامنے آتے ہیں۔ سفر اگر کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے تو وہ مسافر کے لئے وسیع مطالعہ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ موجودہ سفر میں کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی اور بہت سے سوالات سامنے آئے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہاہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ اس طرح کا سوال کرتے ہیں۔ مگر میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون۔ میری دعوتی جدوجہد تقریباً پچاس سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں میں نے اپنا خون خشک کر دیا۔ میری شخصیت ویران ہو گئی۔ میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا۔ مگر اب بھی وہی حال ہے جس کی مشابہت انجیل میں ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے بانسری بجائی مگر تم نے رقص نہیں کیا۔ ہم نے نوحہ کیا مگر تم روئے نہیں۔ (انا زمرنا لكم فما رقصتم و ندبنا لكم فما بكيتُم)

1991 میں رام نومی کے موقع پر سہارنپور میں فساد ہوا اس کی خبریں اخبار میں چھپیں۔ اس کے بعد جو واقعات پیش آئے اس میں سے ایک واقعہ یہ ہوا کہ سہارنپور کی ایک خاتون تسنیم جو جدہ میں رہتی تھیں۔ انہوں نے سہارنپور میں فساد کی خبر سنتے ہی ٹیلی فون کیا کہ سہارنپور کے مسلمانوں کی حالت معلوم کریں۔ ان کا فون سبودھ شرما ایڈوکیٹ کے گھر پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page