Muslims' reservation and education
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۴۹
لاقانونیت اور کرپشن عام ہے۔ طلبہ کا کیریئر سخت خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری موجودہ وائس چانسلر پر جاتی ہے۔ اس لئے انھیں فوراً استعفا دے کر الگ ہو جانا چاہئے۔ رزولیوشن میں کہا گیا تھا کہ جنرل باڈی مطمئن ہے کہ اپنی اس منصفانہ پوزیشن میں اس یونیورسٹی کے تمام لوگوں کی حمایت حاصل ہے:
It has the backing of the entire University community. میں نے علی گڑھ کے ایک اولڈ بوائے سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر بگاڑ صرف وائس چانسلر میں ہوتا اور پوری یونیورسٹی کمیونٹی اس کے خلاف ہوتی تو ایسا عمومی بگاڑ یونیورسٹی میں وجود ہی میں نہ آتا، ایک شخص کبھی بھی عمومی بگاڑ پیدا نہیں کر سکتا۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے۔ اپنے کو برحق ثابت کرنے کے لئے کس طرح آدمی خلاف واقعہ باتیں بولتا ہے۔
سیمنار اور ڈنر سے فارغ ہو کر قیام گاہ (گلزار ابراہیم) پہنچا تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ یہاں جناب عقیل احمد صاحب، جناب اجمل الرحمن صاحب، جناب رشید احمد صاحب اور کچھ دوسرے حضرات اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اس سے ہمیں پورا اتفاق ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت مسلمان سخت مایوسی میں مبتلا ہیں، انھیں مایوسی کی اس دلدل سے کس طرح نکالا جائے ۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب داخلی ہے نہ کہ خارجی۔ موجودہ مایوسی کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کو بار بار نا قابل حصول نشانوں کی طرف دوڑایا گیا۔ نا قابل حصول نشانہ کی طرف دوڑانے کا نتیجہ ہمیشہ مایوسی ہوتا ہے اور قابل حصول نشانہ کی طرف دوڑانے کا نتیجہ ہمیشہ امید۔ ۲۴ اکتوبر کی صبح کو نماز فجر کے بعد جناب عقیل احمد صاحب کے ساتھ چائے پی۔ اس کے بعد دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ عقیل احمد صاحب کے بھتیجے مسٹر محمد عظیم اس سفر میں میرے ساتھ تھے۔ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں۔ وہ سر سید ڈے کے سلسلہ میں اپنے وطن آئے تھے، اور اب دہلی ہوتے ہوئے علی گڑھ جا رہے ہیں۔ ان سے مسلم یونیورسٹی کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues