مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷
آیا (644752-Ph)- شرما صاحب کی بہن مس اپیتا چوں کہ تسنیم صاحبہ کی کلاس فیلو تھیں اس لئے انہوں نے یہ فون ان کے یہاں کیا۔ ۱۹ اپریل کی ملاقات میں مسٹر سبودھ شرما ایڈوکیٹ نے بتایا کہ جب ہمارے گھر میں فون کی گھنٹی بجی اور میری بہن اپیتا نے ریسیور اٹھایا اور فون پر کہا کہ ہلو تو اچانک فون کے دوسری طرف سے رونے کی آواز آنے لگی۔ مس اپیتا نے کہا کہ کیوں رو رہی ہو۔ جدہ سے بولنے والی خاتون نے کہا” ہمیں تو یہ پتہ چلاتھاکہ چوک فوارہ کا علاقہ فساد میں مکمل طور سے نذر آتش ہو چکا ہے اور کسی کے بچنے کی کولےئی امید نہیں ہے۔ وہ اپنی فرینڈ کو زند ہ پا کر اور اس کی آواز فون پر سن کر اونچیپنے میں تھیں اور دیر تک روتی اورسسکتی رہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہیں۔
۹ اپریل کی رات کا کھانا ڈاکٹر کوشل کے یہاں تھا۔ یہاں ڈاکٹر کو شل کے سوا مسٹر امین سیانی (آرٹسٹ) مسٹر دیش بھکت (سیاسی لیڈر) وغیرہ موجود تھے۔ حسب رواج لوگ میری پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگے۔ میں نے ہر ایک کو منع کیا۔ ہر ایک سے کہا کہ آپ لوگ کھائیے، میں بعد کو لوں گا۔ یہاں تک کہ سب لوگ اپنی پلیٹ میں لے کر کھانا کھانے لگے۔ میں نے کچھ دیر کے بعد ایک سادہ روٹی اپنی پلیٹ میں رکھی اور بہت آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ میں چنے کے برابر روٹی کا ایک ٹکڑا توڑ تا اور اس کو منھ میں ڈال کر چبا تا رہتا۔ لوگ کھانا کھا چکے اور میری پلیٹ میں آدھی روٹی رہ گئی تھی۔ میں نے بچی ہوئی روٹی برادرم محمد اسلم کو اصرار کر کے دے دی۔ اس کے سوا میں نے دستر خوان پر کچھ بھی نہیں کھایا۔ وہاں سے لوٹ کر اسی طرح رات کو سو گیا۔ اگلے دن صبح کو کافی دیر کے بعد ڈاکٹر شاہد صابری (امیدیہ) کے یہاں ناشتہ کیا۔ دوبارہ یہ ہوا کہ میز پر پھیلے ہوئے بہت سے آئیٹم میں سے صرف ایک دو چیز کھائی۔ اور بقیہ کو چھوڑ دیا۔
دہلی واپسی کے بعد میں نے برادرم کو کب الباری سے ڈاکٹر کوشل کے یہاں پیش آنے والا روٹی کا قصہ بتایا۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جب میز یا دستر خوان پر طرح طرح کے پر تکلف کھانے ہوں تو ان کو دیکھ کر میرا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues