مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
شہیہ (appetite) ختم ہو جاتا ہے۔ بھوک کی حالت میں بھی کھانے کی رغبت نہیں ہوتی۔ بس زبردستی کچھ کھا لیتا ہوں۔ اس کے بر عکس اگر سادہ کھانا ہو تو کھانے کا جی چاہتا ہے اور میں بھوک کے مطابق شوق سے کھانا کھاتا ہوں۔
میں نے کہا کہ ایک بار میں جموں و کشمیر کے علاقہ میں گیا۔ ایک صاحب کے یہاں شام کے کھانے کی دعوت تھی۔ جن کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ میرے فین (Fan) ہیں۔ انہوں نے انتہائی لذیذ اور پر تکلف کھانے پکوائے۔ دستر دستر خوان پر مختلف قسم کے کھانوں کے ساتھ خالص شہد اور تازہ بادام ہرے چھلکوں کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مسرت کے انداز میں کہا کہ کل جب آپ یہاں سے جائیں گے تو ہم آپ کو شہد اور بادام کا تحفہ دیں گے۔
مگر دستر خوان پر پر تکلف اور خوشبودار کھانوں کو دیکھ کر وہی ہوا کہ میری رغبت ختم ہو گئی۔ وہ مجھ سے بار بار کہتے رہے کہ یہ لیجیے، وہ لیجیے۔ مگر میں کچھ کھانہ سکا۔ میں نے صرف روٹی کا ایک ٹکڑا کھایا اور کچھ شہد اور بادام۔ اس پر صاحب خانہ غصہ ہو گئے۔ شاید انہوں نے اس کو توہین سمجھا کہ ان کے تیار کئے ہوئے پر تکلف کھانے کو میں نے نہیں کھایا۔ ان کا غصہ اتنا بڑھا کہ اگلے دن جب میں ان کے یہاں سے واپس ہو کر دہلی کے لئے روانہ ہوا تو انہوں نے حسب وعدہ مجھ کو نہ شہد کا تحفہ دیا اور نہ تازہ بادام کا۔
جموں اور کشمیر کے اس سفر میں ایک اور بالکل بر عکس واقعہ پیش آیا۔ ایک اسکول کے ماسٹر نے مجھے ناشتہ کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ میں صبح سویرے اسکول کے لئے بذریعہ بس روانہ ہو جاتا ہوں اس لئے آپ سویرے میرے گھر پر آجائیں تاکہ ہم آپ ایک ساتھ ناشتہ کر سکیں۔ میں نے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آؤں گا۔ وہ یہ کہ مجھے آپ وہی ناشتہ کرائیں جو آپ روزانہ کرتے ہیں۔ انہوں نے میری یہ شرط مان لی۔
صبح سویرے میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ان کے گھر پہنچا تو انہوں نے دستر خوان بچھایا اور اس پر دو چیز رکھی۔ سادہ روٹی اور اچار کا ایک ڈبہ۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ یہی ناشتہ کرتا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues