مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹
ہوں۔ اچار سے روٹی کھاتا ہوں اور ایک پیالی چائے پی کر فوراً اسکول چلا جاتا ہوں۔ میں نے سادہ روٹی اور اچار کا یہ ناشتہ بہت شوق کے ساتھ کھایا۔ یہ سادہ کھانا کھا کر اس سے زیادہ خوشی ہوئی جو کھانے کے شوقین لوگوں کو پر تکلف دعوتوں میں ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کوشل کے یہاں کئی دوسرے لوگ بھی موجود تھے ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جو آرٹ کے میدان میں آل انڈیا شہرت رکھتے ہیں۔ ایک اور صاحب تھے جو سینٹرل پالی ٹیکنیک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان لوگوں سے کافی گفتگو ہوئی۔
میں نے محسوس کیا کہ آرٹسٹ لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے صرف لائٹ سائیڈ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو یہ خصوصی مہارت حاصل ہے کہ آپ سائنٹفک سوالات کا بھی پومیٹک جواب دے سکیں۔ یہی حال موجودہ زمانہ کے سیاست دانوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس بات کی کافی مہارت رکھتے ہیں کہ وہ مثبت ایشوز کو بھی منفی رنگ میں بیان کر سکیں۔ ایسے لوگ ہر بات میں ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کی زد حکمراں گروہ پر پڑتی ہو۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے کنڈیشنڈ ہو جاتا ہے اور کسی انسان کے لئے شاید سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ وہ کنڈیشننگ کے اس ذہنی کہر سے باہر آجائے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کم و بیش یہی کیس ہے۔ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے کنڈیشنڈ تھنکنگ کا شکار ہے۔ ایسی حالت میں دعوتی عمل کا آغاز براہ راست خطاب سے نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ اس سے پہلے وہ کام کیا جائے جس کو تقریب ذہن کہا جاتا ہے۔ یعنی سب سے پہلے حکمت کے ساتھ ذہن بنانا اور اس کے بعد براہ راست دعوتی خطاب کرنا۔ اسی حکیمانہ عمل کا نام اسلامی شریعت میں تالیف قلب ہے۔
10 اپریل کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد ڈاکٹر اسلم صاحب کے مکان کی چھت پر ٹہل رہا تھا۔ اس دوران کچھ لاؤڈاسپیکر کی آواز سنائی دی۔ میں نے دھیان دیا تو لاؤڈاسپیکر پر بولنے والا کہہ رہا تھا کہ : سورج نکلنے میں پانچ منٹ باقی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues