Al-Risala · August 2000 · page 30

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰

میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی کے پاس گھڑی ہے۔ ہر آدمی کو پتہ ہے کہ سورج نکلنے یا ڈوبنے میں کتنے منٹ باقی ہیں مگر ایک اور خبر ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے، وہ خبر یہ ہے کہ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر کوئی یہ اعلان کرنے والا نہیں کہ تمہاری موت کے آنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔

۱۰ اپریل کی صبح کو ڈاکٹر شاہد صابری صاحب کے ساتھ امبہٹہ کے لئے روانگی ہوئی جو کہ سہارنپور سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے، امبہٹہ میں وہ پبلک اسکول دیکھا جس کو ڈاکٹر شاہد صابری نے لمبی کوشش کے بعد قائم کیا ہے۔

امبہٹہ میں ڈاکٹر شاہد صابری کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں وہاں کے تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تقریبا ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ مختلف متعلق پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی گئی۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور زیادتی کا معاملہ کیا جاتا ہے ایسی حالت میں وہ یہاں کس طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک فرضی بات ہے۔ مسلمان بروقت ہی اس ملک میں زبردست ترقی کر رہے ہیں۔ اس ترقی کا نمونہ ہر بستی اور ہر شہر میں اس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی موجودہ حالت کا تقابل ان کی ۱۹۴۷ کی حالت سے کیا جائے۔ ملک کی جس مسلم فیملی کا اس روشنی میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر مسلم فیملی ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ یہ سلیکٹیور پورٹنگ (selective reporting) کا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے۔ ہندوستان میں ہر دن ہزاروں گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ لیکن میڈیا میں کبھی ان کی خبر نہیں آتی۔ میڈیا کبھی یہ نہیں بتاتا کہ فلاں ٹرین فلاں اسٹیشن سے اپنے وقت پر روانہ ہوئی اور سیکڑوں میل کا سفر کر کے فلاں اسٹیشن پر خیریت کے ساتھ پہنچ گئی۔ اس قسم کے مثبت واقعات میڈیا میں کبھی رپورٹ نہیں ہوتے اس لئے لوگ غیر شعوری طور پر ان سے بے خبر رہتے ہیں۔ لوگ صرف ان بری خبروں کو جانتے ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں اور تصویروں کے ذریعہ جن کو خوب نمایاں کیا جاتا ہے۔ یہی وہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page