مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱
حادثاتی واقعات ہیں جو ریلوے کی دنیا میں کبھی کبھی اتفاقاً پیش آجاتے ہیں۔ ان استثنائی واقعات کو پڑھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ ریلوں میں روزانہ حادثہ ہی ہو تار ہتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے یہ مسئلہ بہت بڑے پیمانہ پر پیدا کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ موجودہ زمانہ کے اکثر فکری اور عملی مسائل براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی میڈیا کی پیداوار ہیں۔
پھر میں نے کہا کہ مسلمانوں کی جو تصویر عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ میڈیا پر مبنی ہے اور میڈیا گویا سلیکٹیو رپورٹنگ کی ایک انڈسٹری ہے جو اچھی خبروں کو نظر انداز کرتی ہے اور صرف بری خبروں کو پیش کرتی ہے۔ اس غلط تصویر کشی میں سب سے زیادہ دخل اردو اور ہندی اخباروں کا ہے۔
اس سلسلہ میں دوسری بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب کے بعد ایک قسم کا اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ اس لئے آج کسی کے لئے بھی عام حالات میں اقتصادی محرومی کا سوال نہیں۔
ڈاکٹر شاہد صابری نے ہاروت و ماروت کے بارے میں سوال کیا۔ جن کا قصہ قرآن (البقره ۱۰۲) میں آیا ہے۔ میں نے کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہود کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔ بابل (عراق) کا مشرک بادشاہ فلسطین کے یہودیوں کو بڑی تعداد میں پکڑ کر بابل لے گیا اور وہاں وہ خدمت گار کے طور پر رہنے لگے۔ اس زمانہ میں بابل میں جادو اور عملیات کا بہت زور تھا بڑے بڑے ساحر وہاں موجود تھے۔ ان کے ساحرانہ کرشموں کو دیکھ کر یہودی بہت متاثر ہوتے تھے۔
جو لوگ سحر کے کرشمے دکھاتے ان کو وہ بزرگ اور صاحب کرامت سمجھ لیتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہاروت و ماروت کی صورت میں دو فرشتے بابل کی طرف بھیجے۔ وہ وہ وہی ساحرانہ کرشمے زیادہ بڑے پیمانہ پر دکھا سکتے تھے جو بابل کے ماہر جادو گر دکھاتے تھے۔ اس کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues