Al-Risala · August 2000 · page 32

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲

ہاروت و ماروت یہ بھی کہتے کہ یہ محض فتنہ ہے اس کا بزرگی اور خدارسیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاروت و ماروت چونکہ خود بھی جادو جیسے بڑے بڑے کرشمے دکھا سکتے تھے اس لئے ان کی زبان سے ان کرشموں کی نفی بیحد اہم تھی۔ عام آدمی اگر کہے کہ ساحرانہ شعبدے بے حقیقت ہیں تو لوگ اس کو وزن نہ دیں گے۔ مگر جو شخص خود بڑے بڑے ساحرانہ شعبدے دکھا رہا ہو جب وہ یہ کہے کہ یہ کوئی بزرگی اور کرامت کی چیز نہیں تو اس کے بعد لوگوں کے لئے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ سب چیزیں چمتکار ہیں نہ کہ بزرگی یا خدارسیدگی کی علامت۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے اس ملاقات کا ذکر کیا جو چند دن پہلے دہلی میں ہوئی تھی۔ یہ مسٹر مارک تلی (Mark Tully) کی ملاقات تھی۔ وہ ایک سینئر برٹش صحافی ہیں۔ وہ آج کل نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ (4629687 .Tel)

مسٹر مارک تلی ہندوستانی مسلمانوں پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ مجھ سے ملے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان آج پاکستان کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ اس پر انھیں تعجب ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں جو میڈیا میں آتا ہے۔ اور میڈیا کا حال یہ ہے کہ وہ سلیکٹیو رپورٹنگ کی انڈسٹری ہے۔ یعنی بری خبروں کو چھاپنا اور اچھی خبروں کو چھوڑ دینا۔ میں نے بتایا کہ چند دن پہلے میں بی بی سی لندن کی نشریات کو سن رہا تھا۔ اناؤنسر نے ماریشسس کے ایک ہندو کا خط پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ آپ اپنے نیوز بلیشین میں ماریش کی خبریں نہیں دیتے۔ اناؤنسر نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ماریشس میں سب گڈنیوز ہوتی ہیں۔ اور جدید میڈیا کے اصول کے مطابق good news is no news- آپ لوگ کچھ بیڈنیوز (bad news) فراہم کریں تو ہم ضرور ان کو نشر کریں گے۔

امبہٹہ سے واپس ہو کر سہارنپور پہنچا تو یہاں ڈاکٹر اسلم صاحب کے مکان پر بہت سے تعلیم یافتہ افراد منتظر تھے۔ ان میں ہندوبھی تھے اورمسلمان بھی۔ ان سے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page