مغربی یوپی کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
ایک مجلس میں آخرت اور جنت و دوزخ کا ذکر ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ جنت ہمارے عمل سے تو ملے گی نہیں۔ وہ تو اللہ جس کو چاہے گادے گا۔ اس رائے کی تائید میں انہوں نے بعض آیتیں اور حدیثیں پیش کیں۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بھی میرا عمل جنت میں نہیں پہنچائے گا۔ الا یہ کہ خدا اپنی رحمت اور اپنے فضل سے مجھے ڈھانک لے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کا عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جنت کی معیاری دنیا اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار اس کی قیمت نہیں بن سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کسی عمل کی قدر دانی کی بنا پر ملے گی نہ کہ اس عمل کی قیمت کے طور پر۔ قیامت میں خدا ہر ایک کے عمل کو جانچے گا۔ پھر جس آدمی کے عمل کو خالص اور قابل قدر پائے گا اس کی عزت افزائی اس طرح کرے گا کہ اس کے لئے جنت کا فیصلہ فرمادے گا۔
ایک مجلس میں تصوف پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حقیقی تصوف وہ ہے جس کو قرآن میں ربانیت کہا گیا ہے۔ اس تصوف کا مطلب ہے، خارج سے بلند ہو کر داخل کا تجربہ کرنا۔ الفاظ سے گزر کر معانی تک پہنچ جانا۔ میں نے کہا کہ ایک صوفی کا قول ہے: انتم مع اوراد کم ونحن مع وارداتنا۔ اس طرح کے اقوال کو کچھ ناقدین تصوف نے مطلق معنوں میں لے کر یہ سمجھ لیا کہ تصوف ظاہری عمل کی نفی ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اس طرح کے اقوال صرف ایک کے مقابلہ میں دوسرے پر زور دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ مذکورہ قول کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگ اور ادیا ظاہری عمل ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل یہ ہے کہ آدمی کا ظاہری عمل اس کے اندرواردات یااعلیٰ کیفیات پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہو۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ جبری مادیت (compulsive materialism) کا زمانہ ہے۔ ہر آدمی مال کمانے کی طرف دوڑ رہا ہے تا کہ وہ سماج میں اعلیٰ اسٹیٹس کو حاصل کر سکے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ مال اور سامان کا ڈھیر لگانے کے بعد آخر کار آدمی محسوس کرتا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues