Al-Risala · August 2000 · page 34

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴

ہے کہ وہ ایک ناکام انسان ہے۔ کیوں کہ مال کا مقصد خوشی اور سکون تھا، اور وہ مال کے باوجود اس کو نہ مل سکا۔

اس تضاد پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اصل چیز مال نہیں ہے بلکہ اصل چیز مال سے انتفاع یا انجوائے کرنے کی استعداد ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو جو وجود ملا ہے وہ مختلف قسم کی محدودیتوں (limitations) کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ یہی محدودیتیں اس میں رکاوٹ ہیں کہ آدمی یہاں چیزوں سے انجوائے کرے۔ آخرت میں یہ محدودیتیں ختم کر دی جائیں گی۔ اس وقت آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ وہ اپنی بھر پور استعداد (full capacity) کے ساتھ جی سکے۔ اور اسی قسم کی زندگی کا دوسرا نام خوشی اور سکون ہے۔

سہارنپور کے علاقہ میں بہت سے دینی مدرسے ہیں۔ ان میں سے دو زیادہ بڑے ہیں۔ دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور ۔ ان مدرسوں کے ذریعہ دینی تعلیم کی اشاعت کا کام بہت بڑے پیمانہ پر انجام پایا ہے۔

سہارنپور سے ایک اردو ماہنامہ آئینہ مظاہر العلوم کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کا شمارہ مارچ تا مئی ۲۰۰۰ نظر سے گذرا۔ اس میں ”دینی مدارس کی اصلی غرض “ کے عنوان سے مولانا اشرف علی تھانوی کی ایک تحریر شائع ہوئی تھی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مدارس کے علمی معیار کو بڑھانے کی صورت یہ ہے کہ مدارس میں زیادہ اعلیٰ قابلیت کے افراد رکھے جائیں۔ اس تحریر کا ایک اقتباس یہ ہے :

”کوئی مدرسہ کھولنا ہو تو آج کل عادت یہ ہو گئی ہے کہ جو مدرسہ کی اصلی غرض ہے اس کی طرف تو لوگ نظر کرتے نہیں زوائد کو شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے عمارت بنتی ہے اور وہ بھی ایسی ہوتی ہے کہ لوگ تماشہ کے لئے آیا کریں۔ روپیہ جو کچھ ہوتا ہے وہ تو اس میں خرچ ہو جاتا ہے اور جو اصل غرض تھی اس میں تخفیف کی جاتی ہے۔ اصل غرض تعلیم ہے۔ اس میں تخفیف یوں کی جاتی ہے کہ مدرسین بہت کم تنخواہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page