Al-Risala · August 2000 · page 35

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵

ڈھونڈے جاتے ہیں۔ مدرس جتنا کم تنخواہ پر مل جائے اسی کو مہتمم اپنی کارگزاری سمجھتے ہیں۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ مدرسین کی تعداد بڑھا لیں چاہے وہ فارغ التحصیل بھی نہ ہوں۔ بس تماشائیوں کو دکھلا دیا کریں کہ ہمارے مدرسہ میں اتنے مدرسین ہیں۔ صاحبو! اہل کمال تو کسی فن کے بھی سستے نہیں آتے۔ اچھا کاریگر، معمار مزدور کی اجرت پر نہیں آسکتا، اچھا دھوبی معمولی دھوبیوں سے دام زیادہ ہی لیتا ہے۔ پھر مدرس وہ کیسے اچھا ہو گا جو کم تنخواہ پر آ جاوے۔ بات یہ ہے کہ ہر چیز میں تو آج کل ترقی ہے اور دین میں پست ہمتی ہے۔ دنیا کی ہر چیز میں تو وہی چیز پسند کی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کی ہو اور دین میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کو بھی کافی سمجھ لیتے ہیں، افسوس آج کل حقیقت شناسی سے کس قدر بعد ہو گیا ہے۔ “(صفحہ ۱۶)

ایک مجلس میں ایک صاحب نے آرٹ کے بارے میں سوال کیا۔ کیا اسلام میں آرٹ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً رقص، موسیقی، پینٹنگ، گانا وغیرہ۔ میں نے کہا کہ یہ چیزیں اسلام میں صراحۃً حرام نہیں کی گئی ہیں۔ مگر اسلام اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آرٹ خواہ حرام نہ ہو مگر اس کا ایک اور شدید نقصان ہے۔ اور وہ یہ کہ جو لوگ اس قسم کی چیزوں میں مشغول ہوتے ہیں وہ زندگی کے صرف لائٹ (light) سائیڈ میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ زندگی کے زیادہ سنجیدہ (serious) سائیڈ میں ان کی دلچسپی کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہ بلاشبہ کسی انسان کی حقیقی ترقی کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

۱۰ اپریل کو دو بجے ہوٹل پنجاب کے وسیع ہال میں عام جلسہ ہوا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ جگہ نہ پانے کی بنا پر کھڑے ہوئے نظر آئے۔ اس جلسہ میں جناب جسٹس شمیم صاحب اور مسٹر امین سیانی اور بعض دوسرے افراد کی تقریریں ہوئیں۔ مسٹر امین سیانی ریڈیو کے ذریعہ کافی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میل ملاپ کا پیغام دیا۔ جناب جسٹس شمیم صاحب مائنارٹی کمیشن کے چر مین ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page