Al-Risala · August 2000 · page 36

مغربی یوپی کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

موجودہ حالت میں ہماری سب سے بڑی ضرورت نیشنل انٹیگریشن ہے۔ جب تک نیشنل انٹیگریشن نہ ہو کوئی بڑی ترقی ممکن نہ ہوگی۔

اس جلسہ میں مجھ کو تقریر کا جو عنوان دیا گیا تھا وہ اسلام اور سائنس تھا۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ سائنس اسلامی انقلاب ہی کی ایک پیداوار ہے۔ سائنس کیا ہے۔ سائنس حقائق فطرت کی دریافت پر مبنی ہے۔ فطرت (نیچر) اسلام سے پہلے پرستش کا موضوع بنی ہوئی تھی ۔ اسلام سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا، اور شرک فطرت کی پرستش (نیچر در شپ) کا دوسرا نام ہے۔ فطرت کی چیزوں کو قابل پرستش معبود سمجھ لینے کی وجہ سے فطرت کی تحقیق رکی ہوئی تھی۔ اسلام نے جب فطرت کو پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنایا تو اس کے بعد علوم فطرت ظہور میں آنا شروع ہوئے۔ اس طرح تاریخ میں سائنس کے دور کا آغاز ہوا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب اسلام دور جدید کا خالق)

ایک مجلس میں مسٹر امین سیانی (بمبئی) نے یہ سوال کیا کہ حب الوطني من الایمان قرآن میں ہے یا حدیث میں۔ میں نے کہا کہ وہ نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔ یہ دراصل ایک عربی مقولہ ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ عربی مقولہ فطرت پر مبنی ہے۔ وہ انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ حب الوطني من الایمان تو قرآن و حدیث میں نہیں۔ مگر معمولی فرق کے ساتھ وہ ہر آدمی کے سینہ کے اندر لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے: حب الوطني من الفطرة ۔ میں نے کہا کہ قرآن میں کہیں یہ لکھا ہوا نہیں کہ اے ماؤ تم اپنے بیٹوں سے محبت کرو۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماؤں کو اپنے بیٹوں سے محبت نہیں کرنا چاہئے۔ بیٹے کے لئے ماں کے دل میں محبت ہونا خود انسانی فطرت میں لکھا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو قرآن میں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس کو قرآن میں درج نہیں کیا گیا۔ بلکہ فطرت انسانی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا گیا۔

یہاں ایک صاحب تھے جن کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن اور وید ایک ہی ہیں۔ انہوں نے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page