Muslims' reservation and education
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۰
بارہ میں گفتگو ہوتی رہی۔
انھوں نے بتایا کہ میرے والد نے بھی علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ہاسٹل میں وارڈن کا بہت دبدبہ ہوتا تھا۔ ہم لوگ وارڈن کے دباؤ میں رہتے تھے ۔ یہ دباؤ ہمیں تعلیم کے علاوہ دوسری فضولیات سے بچائے رکھتا تھا۔ مگر عظیم صاحب نے بتایا کہ اب یہ حال ہے کہ مہینوں تک وارڈن کی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ ہوسٹلوں میں وارڈن کے کمرے ہیں۔ مگر وارڈن ہمیشہ باہر رہتے ہیں۔ وہ طلبہ پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کرتے اس کی وجہ طلبہ میں بڑھی ہوئی انار کی ہے۔ پہلے طلبہ وارڈن سے ڈرتے تھے۔ اب وارڈن خود طالب علموں سے ڈرتے ہیں۔ اس نے تعلیم کا معیار آخری حد تک گرا دیا ہے۔
تعلیمی معیار پست ہونے کا ایک سبب رزرویشن بھی ہے۔ مسلم یونیورسٹی میں پچاس فی صد سیٹیں انٹرنل کے لئے مخصوص ہیں۔ چنانچہ طلبہ سوچتے ہیں کہ ہم پڑھیں یا نہ پڑھیں، ہمارا داخلہ تو ہر حال میں ہو جائے گا۔ اس تحفظ نے طلبہ کے اندر علمی ذوق کا خاتمہ کر دیا ہے۔ میں نے عظیم صاحب سے پوچھا کہ طلبہ پھر کرتے کیا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اطراف میں کثیر تعداد میں ڈھابے کھلے ہوئے ہیں۔ یہاں بیٹھ کر وہ چائے پیتے ہیں، گانا سنتے ہیں، تفریحی باتیں کرتے ہیں۔ یہی ان کا روزانہ کا مشغلہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ طلبہ جب آپس میں بیٹھتے ہیں تو کیا وہ اپنے کورس کی باتیں کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے طالب علم اتنے کم ہیں کہ ان کا کوئی فی صد مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ علی گڑھ کی ڈگری کی علی گڑھ سے باہر کوئی قیمت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رعایت ترقی کی قاتل ہے۔
عظیم صاحب نے ایک عجیب واقعہ بتایا۔ کچھ سال پہلے ٹاٹا کے لوگ علی گڑھ آئے۔ اور یہاں سے ایک درجن انجینئر طلبہ کو بھرتی کر کے لے گئے۔ انھوں نے ان طلبہ کو ایک بڑے پلانٹ میں لگایا۔ مگر انھوں نے عدم مہارت کی بنا پر فیکٹری کے ایک قیمتی بوائلر کو تباہ کر دیا۔ اس میں ٹاٹا کا کئی کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ اس کے بعد یہ حال ہوا کہ ٹاٹا والوں کا جب کوئی اشتہار نکلتا تو اس میں یہ لکھاہوارہتاتھا: Aligarh students need not apply.
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues