Al-Risala · August 2000 · page 42

Follow one, respect all

الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲

میں تعمیر خویش کا جذبہ جاگ اٹھا۔ مگر جب انہوں نے اس معاملہ کو اغیار کی سازش اور دشمنی کا نتیجہ قرار دیا تو مسلمانوں میں غیر قوم کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ پورا مسلم معاشرہ منفی سوچ کا شکار ہو گیا۔ اس کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو آپ نے جذباتی سوچ کا نام دیا ہے۔ اس طرح تقریباً دو سو سال پہلے مسلمانوں کے اندر جذباتی طرزِ فکر شروع ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے پوری مسلم ملت پر چھا گیا۔ اب ضرورت ہے کہ اس جذباتی طرزِ فکر کو توڑا جائے اور لوگوں میں حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ مگر یہ کام ایک بھاری قربانی چاہتا ہے۔ اور وہ قربانی شخصی مقبولیت کی قربانی ہے۔ جو آدمی اس مزاج کو ختم کرنے کے لئے اٹھے گا یقینی طور پر وہ مسلمانوں میں غیر مقبول ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملت کے فہیم حضرات مصلحت کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے مزاج کو توڑنے کی بجائے اس کو وہ غذا دے رہے ہیں جو اس کو پسند ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اندر غیر مقبول ہونے سے بچائیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنی مقبولیت کی موت کے اوپر مسلمانوں کی زندگی کی بنیاد رکھ سکے۔ جو مسلمانوں کی جذباتیت کو ختم کر کے ان کو حقیقت پسند بنائے، جو آدمی جذباتی تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرے گا، ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کی پہلی نسل میں غیر مقبول ہو جائے مگر یہی وہ حوصلہ مند شخص ہے جو اپنی ذاتی قربانی کی بنیاد پر ملت کے مستقبل کی تعمیر کرے گا۔ تاریخ گواہ ایسے ہی ایک بہادر انسان کا انتظار ہے۔ سوال الرساله جنوری ۲۰۰۰ میں ایک مضمون " مستقبل کی قیادت " کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ: "ملک کے uper cast (ہندو) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے اس میں اونچی ذات والوں کے لئے تو با عزت جگہ ہے، مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لئے اس میں کوئی با عزت جگہ نہیں۔ "مگر مسلمانوں میں بھی اسی طرح کی تفریق و کمزوری ہے، وہ کس آئیڈیالوجی یا سسٹم کے تحت ہے اس گمبھیر معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (انوار الحق، شیخ پورہ)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues

Printed page