جہاد قرآن میں
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵
اسی طرح کہا جاتا ہے: لا بلغن جهدای فی الامر (میں معاملہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا) جہاد یا مجاہدہ کا مفہوم بھی یہی ہے قرآن میں آیا ہے کہ: جاهدوا في ٱللَّهِ حق جهاده (اللہ کے راستہ میں پوری کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے)
مشہور عربی لغت لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ جھد کے معنی مبالغہ آمیز کوشش کے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے : جهدت جهدی واجتهدت رأى ونفسی حتی بلغت مجهودی (ص:
۱۳۳) یعنی میں نے ہر طرح اپنی پوری کوشش کی یہاں تک کہ میں اپنی آخری کوشش تک پہنچ گیا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: جهد الرجل في كذا اى جد فيه وبالغ (آدمی نے معاملے میں کوشش کی اور اپنی پوری کوشش کر ڈالی) جہاد یا اجتہاد کا مطلب ہے: بذل الوسع فی طلب الامر (کسی کام میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا)
حالات کی نسبت سے کبھی جہاد یا جدوجہد کا یہ عمل دشمنوں سے مقابلہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت، باعتبار استعمال نہ کہ باعتبار لغت، اس میں محاربہ کا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی نے استعمال کی نسبت سے جہاد کی تین قسمیں بتائی ہیں: ظاہری دشمن سے مقابلہ اور شیطان سے مقابلہ اور نفس سے مقابلہ (والجهاد ثلاثة اضرب : مجاهدة العدو الظاهر، ومجاهدة الشيطان، ومجاهدة النفس)۔
جہاد قرآن میں
قرآن میں بھی جہاد یا اس کے مشتقات اسی معنی میں آئے ہیں جس معنی میں وہ لغت عرب میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی کسی مقصد کے لئے مبالغہ آمیز کوشش کرنا۔ لفظ’’جہاد‘‘ قرآن میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ لفظ کوشش اور جدوجہد کے معنی میں ہے نہ کہ براہ راست طور پر جنگ و قتال کے معنی میں۔
اس سلسلہ میں پہلی قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues