Salaam.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷
روزنامہ قومی آواز (نئی دہلی) کے شمارہ ۱۴ جون ۲۰۰۰ میں اس کے ’’مراسلات‘‘کے کے کالم میں ایک مراسلہ چھپا ہے جس کا عنوان ہے ”تاریخ ساز ہستی“۔ یہ مراسلہ قومی آواز کے کالم سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے:
مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت ان کے علمی و دینی کاموں کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ آج کے اس پر فتن دور میں جب کہ قبروں کی تجارت سے لے کر مساجد و مدارس کی تجارت اور نوع بنوع تنظیموں کی بھر مار بام عروج پر ہے جس سے مسلمانوں پر ایسے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ وہ قوت فکر سے عاری اور حق و باطل کی تمیز سے کوسوں دور ہیں۔ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اسلام کی آفاقیت رہبانیت کی شکل اختیار کر گئی ہے اور بد قسمتی سے ایک محدود ذہنیت کے لوگ اسلام کی تصویر مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت نے مسلمانوں کو نئی زندگی اور صحیح انداز فکر کی دعوت دی ہے۔ وہ ایسے واحد مسلم مفکر ہیں جو بے لوث و بے غرض اور منفعت خوری سے ہٹ کر مسلمانوں کے تئیں مخلصانہ جذبہ رکھتے ہیں۔ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں مسلمانوں کو بے جا جذباتیت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں کیوں کہ بے جا جذباتیت سے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ ان کے گرانقدر مشوروں اور نصیحتوں کو سمجھتا ہے اور انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ان کی پوری زندگی قرآنی علوم و احادیث نبویہ و تاریخ قدیم و جدید کے گہرے مطالعہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے ان کا ایک ایک لفظ جادو سے زیادہ موثر اور سونے سے زیادہ قیمتی ہو تا ہے۔ ماہنامہ ”الرسالہ“ ایک زندہ و تابندہ شہادت ہے۔ یوں تو ہر دور میں منافقت و تشدد کا دور دورہ رہا ہے لیکن عصر حاضر میں یہ وبا کچھ اور عام سی ہو گئی ہے۔ وقت کی یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ جب جب لوگوں نے اپنے اپنے دور میں صدائے حق اور علم اور عرفان بلند کی ہے۔ ایک علم و آگہی سے کور اور غبی طبقہ ان کا مخالف ہو گیا ہے کیوں کہ یہ طبقہ ان بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے ذرا بھی مختلف نہیں ہے جنہیں قدرت نے اشرف المخلوقات
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues