Salaam.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸
جیسی عقل و خرد سے ہمکنار نہیں کیا۔
تاریخ کے صفحات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی مذہب میں چاہے وہ عیسائی دھرم ہو یا اسلام جیسا صاف ستھرا آفاقی مذہب ہو جب بھی اس کی صفوں میں جوگیوں راہبوں کی کثرت ہونے لگی ہے، قدرت نے ان کے اندر ایک مصلح بھیجا ہے جس نے انشراح صدر کے ساتھ تمام مظالم کا سامنا کیا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آیا ہے کہ اس کی بے پناہ زمینی حقیقت کے سامنے بڑے بڑے پادریوں جوگیوں اور رہبانیت کی تعلیم دینے والے اماموں کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ سب کچھ ایک طویل مدت میں سر انجام پاتا ہے اگر ایک طرف اسلام کا آغاز قرآنی آیات کی قرأت ہے تو دوسری طرف کفار اور حاسدین کی پوری کوشش ہے کہ قرآن کی آواز کسی دوسرے کان تک نہ پہنچ سکے اور یہی واقعہ عصر اسلام سے عصر جدید تک دہرایا جا رہا ہے۔
مولانا کا "علم جدید کا چیلنج" ان کے معترضین کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جس نے ان کی راتوں کی نیند حرام کر دی ہے۔ مولانا کے مداحوں اور ان کے موقف کی تائید کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں ان کی معترضین بغلیں جھانک رہے ہیں کیوں کہ انہیں تعلیم یافتہ طبقہ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ سب ایک مخصوص گراؤنڈ کے لوگ ہیں جنہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہے اور ان کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟ موجودہ مشکلات کے اسباب کیا ہیں اور ان سے کیوں کر نمٹا جا سکتا ہے۔ ہم جے این یو (J.N.U) کے طلباء مولانا کا بہت احترام کرتے ہیں کیوں کہ ان کی ہستی پوری امت اسلامیہ کے لیے مایہ افتخار ہے۔ (عمیر احمد ندوی، ایم اے عربک، جواہر لال نہرو یونیورسٹی) انگریزی میں ایک کتاب اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered) کے نام سے تیار ہوئی ہے اور اس وقت زیر طبع ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اسلام کے مختلف فکری اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ پوری کتاب جدید سائنسی اسلوب میں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues